پاکستان کی عالمی پذیرائی علاقائی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی
بھارت افغان طالبان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کوشاں
تجزیہ: سلمان غنی
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کو ملنے والی عالمی پذیرائی خطے کے بعض مخالفین کیلئے باعثِ تشویش بنتی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا اور سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔اطلاعات ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم بعض عناصر اور افغان طالبان سے منسلک حلقے پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں، جبکہ اس پراپیگنڈا مہم کے پیچھے بیرونی حمایت کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی دراندازی یا حملے کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کیوں استعمال ہو رہی ہے ، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے متعدد بار یقین دہانیاں ہو چکی ہیں۔
یکم اپریل کو چین کے شہر آرمچی میں پاکستان اور افغان حکام کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے ، جن میں چین نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور افغان سرزمین کے غیر استعمال کی یقین دہانی کرائی گئی، تاہم عملی صورتحال میں بہتری نہ آ سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حالیہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت ملنے کے بعد مخالف قوتوں نے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔ بعض حلقے یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را خطے میں پراکسی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی قسم کی دراندازی کو روکا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات مخصوص دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں، نہ کہ افغان عوام کے خلاف۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک بڑی سٹریٹجک کشمکش کا حصہ ہو سکتی ہے ، جس کا مقصد پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور معاشی اہمیت کو محدود کرنا ہے ۔ اس تناظر میں قطر سمیت دیگر ممالک بھی خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہ آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے علاقائی مفادات کارفرما ہیں، جس کے باعث پاکستان کو بیک وقت سفارتی اور سکیورٹی محاذوں پر متحرک رہنا پڑ رہا ہے ۔