دباؤ میں لا کر عدلیہ کی خودمختاری متاثر کی جا رہی:وکلا رہنما

 دباؤ میں لا کر عدلیہ کی خودمختاری متاثر کی جا رہی:وکلا رہنما

اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے تبادلے غیر قانونی ،آئینی ترامیم ہر صورت واپس ہونگی

لاہور(کورٹ رپورٹر)وکلا رہنماؤں نے کہا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لا کر اس کی خودمختاری متاثر کی جا رہی ، آئین کی بالادستی، رول آف لا اور آزاد عدلیہ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ان خیالات کا اظہار صدرلاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بابر مرتضیٰ ،ممبر پاکستان بار   کونسل شفقت محمود چوہان،ممبر پنجاب بار کونسل شہزاد خان کاکڑ،صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ ،سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار اشتیاق احمد خان نے گزشتہ روز یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ججوں کے تبادلوں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، وکلا کی احتجاجی تحریک اور بار ایسوسی ایشنز کے اختیارات سے متعلق پنجاب بار کونسل کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔بابر مرتضیٰ نے کہا کہ احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی،کیسز کو فکس نہ کرنا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے ،ہمارا مطالبہ ہے ججوں کے تبادلوں پر فوری طور پر ایکشن لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین رہے گا یا یہ ترامیم رہیں گی ،حسان نیازی کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے انہیں سیاسی بنیادوں پر سزا سنائی گئی ، ملک میں سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ بنانے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔

شفقت محمود چوہان نے کہا کہ وکلا کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے غیر قانونی ہیں ،آئینی ترامیم ہر صورت واپس ہونگی۔ شہزاد خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ججوں کے تبادلوں اور عدالتی نظام میں مداخلت کے خلاف پنجاب بار کونسل کے 19 اراکین نے 25 اپریل 2025 کو ایمرجنسی ہاؤس اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا رکھی ، تاحال اجلاس طلب نہیں کیا گیا، اگر بار ایسوسی ایشنز کے حقوق سلب کئے گئے تو وکلاء مزید سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر قبضہ کرنیوالی موجودہ اسمبلی کی اپنی کوئی سوچ نہیں ، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جہاں ججز آزادانہ فیصلے کرنے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کریں ،اگر رول آف لا کیلئے مجھے جیل جانا پڑا تو خوشی سے جائیں گے ، ججوں کے تبادلوں کی مذمت کرتے ہیں ۔ اشتیاق احمد خان نے کہا کہ عدلیہ کویرغمال بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں ججوں کی نگرانی اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق دائر کی گئی درخواستیں بھی تاحال زیر التوا ہیں ،حالیہ تبادلے آئینی روح کے منافی دکھائی دیتے ہیں، بار ایسوسی ایشنز کے احتجاجی حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں