گندم کی نقل و حمل پر پابندی ختم کی جائے :فلور ملز ایسوسی ایشن
لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آچکی ہے۔
صوبہ پنجاب، جو ملک کی ضروریات کا 75 فیصد اناج پیدا کرتا ہے ، وہاں گندم کی وافر مقدار موجود ہے ۔صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کم پیداواری علاقے ہیں اور دونوں صوبے اپنی غذائی ضروریات پنجاب سے گندم اور آٹا خرید کر پوری کرتے ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت نے گزشتہ سال سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ ان پابندیوں کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گندم کے حوالے سے بحرانی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اور آٹے کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
اگر ملک میں گندم کی قلت نہیں ہے تو نقل و حمل پر عائد پابندیاں فوری ختم کی جائیں تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھا جاسکے ،انہوں نے مزید کہا اگر گندم کی قلت کے خدشات موجود ہیں تو حکومت اور وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ فوری طور پر صوبائی حکومتوں کو سستی غیر ملکی گندم درآمد کرنے کی اجازت دے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جاسکے اور فلور ملنگ انڈسٹری کو بھی فعال رکھا جا سکے۔