عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام : حافظ نعیم الرحمٰن

 عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام : حافظ نعیم الرحمٰن

24لاکھ مقدمات زیر التوا،چند لوگوں کی عدالتوں تک رسائی ، حکومت وکلاء کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہائیکورٹ کے ججز کا تبادلہ تشویشناک، 26ویں اور 27ویں ترمیم مسترد، جب موقع ملا ختم کردینگے :وکلا سے خطاب

رحیم یار خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر )جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیرحافظ نعیم الرحمن نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں 24 لاکھ سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور 44 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ہمارا عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا، عدالتوں میں 24لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں ،چند لوگوں کو عدالتوں تک رسائی حاصل ہے ، حکومت وکلاء کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ، وکلا متحد رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا تبادلہ تشویشناک، 26ویں اور 27ویں ترمیم مستردکرتے ہیں ، جب موقع ملا ختم کردینگے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار رحیم یار خان میں وکلاسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہنگا اور پیچیدہ عدالتی نظام عام آدمی کو انصاف سے دور کر چکا ہے ۔ انہوں نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ مظلوموں کو انصاف دلانے اور آئین کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ وکلاء ہی سائلین کی آخری امید ہوتے ہیں۔

صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مبشر نذیر لاڑ ایڈووکیٹ’ جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار محمد ذیشان جہانگیر ایڈووکیٹ، چودھری اختر چہور ایڈووکیٹ، عبدالرشید ایڈووکیٹ اور احمد سجاد فرحان بلالی ایڈووکیٹ نے امیر جماعت اسلامی کا ڈسٹرکٹ بار پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر صوبائی امیر جماعت اسلامی سید ذیشان اختر’ ثناء اللہ سہرانی’ڈاکٹر عمر فاروق شیخ’ ڈاکٹر انوارالحق و دیگر قائدین بھی ہمراہ تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام لوگوں کو بروقت اور سستا انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے حالیہ تبادلے کو عدلیہ کی آزادی کے لیے تشویشناک قرار دیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے متعلق کہا کہ یہ ترامیم عدلیہ کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں