ایران، امریکا کشیدگی کی نئی لہرسے صورتحال پیچیدہ
بھارت، اسرائیل معاہدہ نہیں چاہتے ،خطے کی اہم طاقتیں جنگ بند کراسکتیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
سعودی عرب کی جانب سے امریکا ،ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی کی نئی لہر پر تشویش کے اظہار کے ساتھ پاکستان کی ثالثی کوششوں پر اعتماد اور حمایت کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ خطہ میں امن کیلئے علاقائی ممالک خصوصاً مشرق وسطٰی کے ممالک پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستان سے اچھی توقعات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں ۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جنگ بندی کے احترام اور اسے برقرار رکھنے پر زور دیا ہے ۔امریکا، ایران میں کشیدگی کی نئی لہر ایک پیچیدہ صورتحال ہے ۔صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے عمل کو اپنی زندگی موت کا مسئلہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں ،ان کے خیال میں آبنائے ہرمز کو کھلوائے بغیر ان کا کوئی سیاسی کیس نہیں رہتا جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو چھوڑنا اپنی بقا و سلامتی کیلئے خطرناک قرار دیدیا ہے ،نئی گھمبیر صورتحال میں گیند پاکستان کے کورٹ میں نظر آ رہی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی پاکستان کا کلیدی کردار ہے ، حالانکہ یہ کردار کافی پیچیدہ ہے اور اسے تنقید کا سامنا بھی ہے۔
پاکستان واحد ملک ہے جسے دونوں فریقین تسلیم کرتے ہیں اور یہ پاکستان ہی تھا جس نے گیارہ بارہ اپریل کو فریقین کو بٹھا کر جنگ بندی ممکن بنائی تھی اور یہ پاکستان کا ہی مثبت کردار ہے کہ امریکا نے قبضہ میں لئے ایک ایرانی جہاز اور اس کے عملے کے 22اراکین کو پاکستان کے حوالے کیا اور پاکستان نے سفارتی کشیدگی کم کرنے والے اقدام کے طور پر خوش آمدید کہا ۔اپنی کوششوں کے باوجود پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس پر دوہرا کھیل کھیلنے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ پاکستان فی الحال ثالث تو ہے لیکن یہ کردار انتہائی نازک ہے ۔ پاکستان چونکہ خود معاشی حوالے سے بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ، لہٰذا وہ ہر قیمت پر علاقہ میں امن چاہتا ہے ۔مذاکرات میں مرکزی مشکلات جوہری پروگرام،آبنائے ہرمز کے کردار اور دیگر تحفظات کا دور نہ ہونا ہے۔
اس وقت امریکا و ایران دونوں پھنسے نظر آ رہے ہیں اور وہ اس کیفیت سے نکل نہیں پا رہے ،یہی وجہ ہے کہ امریکا پاکستان کی تعریفیں کرتا نظر آرہا ہے ،ٹرمپ پاکستان کی قیادت کی تعریف آخر کیوں نہ کریں وہ انہی پر انحصار کررہے ہیں ، البتہ کچھ طاقتیں اپنے مذموم عزائم کے تحت اس عمل کو آگے بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتیں اور وہ جلتی پر تیل ڈالنے کیلئے سرگرم ہیں اور خصوصاً بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کا مثبت کردار ہضم نہیں ہو پا رہا اور وہ نہیں چاہتے کہ امریکا و ایران میں قابل قبول معاہدہ طے پائے ۔تاہم ابھی پاکستان کا کردار جاری ہے اور اس کی پشت پر بعض اہم علاقائی اور مشرق وسطٰی کی طاقتیں کھڑی ہیں، اس لئے جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔