ججز ہمایوں دلاور، صدیق دلاور کیخلاف FIRختم کرنیکا حکم

ججز ہمایوں دلاور، صدیق دلاور  کیخلاف FIRختم کرنیکا حکم

پشاور (اے پی پی) پشاور ہائیکورٹ کے بنوں بینچ نے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کے مقدمہ میں فیصلہ سناتے ہوئے ججز ہمایوں دلاور اور صدیق دلاور کے خلاف قائم ایف آئی آر ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس ثابت اﷲ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ریکارڈ اور متعلقہ حکام کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ سنایا۔  عدالت میں پیش ریکارڈ کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے بنوں میں واقع مختلف 5خسرہ جات کی منتقلی پر اعتراض اٹھایا تھا کہ مذکورہ اراضی سینئر سول جج کی 30 مارچ 1980 کے عدالتی ڈگری کی بنیاد پر دلاور خان (والد ججز ہمایوں دلاور اور صدیق دلاور) کے نام منتقل کی گئی حالانکہ ڈگری میں ملکیت کی منتقلی کے واضح احکامات نہیں تھے ۔ بنوں ضلع انتظامیہ کے ڈپٹی کمشنر دفتر کے ذریعے جمع کرائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ 30 مارچ 1980 کا فیصلہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 145 کے تحت غیر قانونی قبضے کے تنازع سے متعلق تھا جس میں دلاور خان کا قبضہ برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔ پٹواری، گرداور، تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر ریونیو پر مشتمل کمیٹی نے بھی متفقہ طور پر رجسٹرڈ ڈیڈز اور میوٹیشنز کو قانونی قرار دیا، حد بندی میں بھی اضافی قبضے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر رپورٹ اور دستیاب شواہد کی روشنی میں قرار دیا کہ اینٹی کرپشن کے الزامات ٹھوس بنیادوں پر قائم نہیں لہذا ایف آئی آر برقرار رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔ واضح رہے جج ہمایوں دلاور نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فیصلہ سنایا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں