ملک بھر میں 14 کروڑ سوشل میڈیا صارفین، 20 فیصد جعلی اکاؤنٹس

ملک بھر میں 14 کروڑ سوشل میڈیا صارفین، 20 فیصد جعلی اکاؤنٹس

پیکا ایکٹ کے تحت 13صحافیوں کے خلاف مقدمات ، ابتدائی تحقیقات کے بعد 11خارج تھانوں کو سائبر کرائم ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں، ذیلی کمیٹی اطلاعات کو بریفنگ

 اسلام آباد (نامہ نگار) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ صحافیوں کے خلاف درج 13 ایف آئی آرز میں سے 11 ابتدائی تحقیقات کے بعد خارج کر دی گئی ہیں۔ اجلاس کنو ینر سرمد علی کی زیر صدارت ہوا، جس میں سائبر کرائم سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیکا 2025 میں حالیہ ترامیم کے بعد کسی بھی پولیس سٹیشن کو سائبر کرائم کی ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں رہا اور تمام شکایات تحقیقات کے لئے این سی سی آئی اے کو بھیجی جا رہی ہیں۔ تاہم جہاں آن لائن سرگرمی روایتی جرم میں تبدیل ہو، وہاں دو ایف آئی آر درج ہو سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق ملک میں سائبر کرائم کے 689 مقدمات درج ہوئے جبکہ پنجاب میں تقریباً 500 کیسز زیر سماعت ہیں۔ پنجاب میں 2020 سے 2025 کے دوران 370 ایف آئی آرز درج ہوئیں، سندھ میں 55 کیسز میں سے 33 این سی سی آئی اے کو منتقل کئے گئے ، جبکہ اسلام آباد میں آخری سائبر ایف آئی آر 14 ستمبر 2025 کو درج ہوئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 14 کروڑ افراد آن لائن سرگرم ہیں اور سوشل میڈیا کے 20 فیصد اکاؤنٹس جعلی ہیں، جو دھوکہ دہی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ این سی سی آئی اے کو گزشتہ سال تقریباً 1 لاکھ 54 ہزار شکایات موصول ہوئیں جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان کی درخواستوں کا 83 فیصد جواب دیتے ہیں۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سائبر کرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے صوبائی سطح پر اداروں کے قیام کی تجویز زیر غور ہے اور صوبائی پولیس کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ مقدمات ترجیحی بنیادوں پر این سی سی آئی اے کو منتقل کیے جائیں اور آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں