مولانا ادریس کی شہادت پرجے یو آ ئی کے مظاہرے ، کل پھر احتجاج
فضل الرحمن کی شہیدکے گھر آمد، تعزیت، واقعہ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ قتل میں 4ملزم ملوث ،دو افراد نے ریکی،2نے سہولت کاری کی،پولیس
پشاور،چارسدہ (مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز ) مولانا ادریس کی شہادت کے خلاف مظاہرے کیے گئے ۔ پشار ،بونیر ،مہمند ،شانگلہ ،کوہاٹ ،شمالی وزیرستان،مردان، ٹانک ،صوابی ،لوئر دیر،کرک ،لکی مروت ،چارسدہ ،ڈیرہ اسماعیل خان ،خیبرمیں جے یو آئی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے ،قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور شدید نعرے بازی کی ۔ جے یو آ ئی (س) کے امیر مولانا عبدالحق ثانی کی قیادت میں مین جی ٹی روڈ پر جامعہ حقانیہ کے طلبا اور عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قاتلوں کو تین دن کے اندر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے پارٹی کے سابق ایم پی اے اور معروف عالم دین مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کل نماز جمعہ کے بعد پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کردیا۔
چارسدہ میں انہوں نے مولانا محمد ادریس کے گھر جا کر تعزیت کی اور شہید کو خراج عقیدت پیش کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ شہید کے قاتلوں کو گرفتار کریں، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو گرفتار کر کے سامنے لایا جائے ۔ علاوہ ازیں واقعہ کی تحقیقات جا ری ہیں ، تحقیقاتی ٹیم کے مطابق مولانا ادریس پر حملے میں 9 ایم ایم پستول استعمال کیا گیا، 4 افراد حملے میں ملوث نکلے ۔تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ دو افراد نے ریکی اور دیگر نے سہولت کاری کی، گھر سے مدرسے کے درمیان 2 کلو میٹر فاصلہ تھا، قبرستان کے قریب حملہ آوروں نے ریکی کی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں جن میں ایک ملزم کی شناخت کر لی گئی جس کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کے ڈرائیور کا ابتدائی بیان قلم بند کر لیا گیا ۔