حکومت نے پٹرولیم لیوی وصولی کا اختیار ایف بی آرکودیدیا

 حکومت نے پٹرولیم لیوی وصولی کا اختیار ایف بی آرکودیدیا

ایف بی آر وزارت پٹرولیم کے ایجنٹ کے طور پر کام کرے گا،ایس آر او جاری نیا نظام متعارف، پمپ مالکان کے لئے تفصیلی ریکارڈ لازم،ٹیکس کی شرح برقرار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل)اور کلائمٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل)کی وصولی کا اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کو دے دیا ، جس کے بعد ایف بی آر وزارت پٹرولیم کے ایجنٹ کے طور پر یہ لیوی وصول کرے گا۔ایف بی آر نے اس حوالے سے نئے قواعد وضوابط جاری کرتے ہوئے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم کر دی ہیں اور لیوی وصولی کیلئے نیا نظام متعارف کرا دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پی ڈی ایل اور سی ایس ایل کی وصولی کیلئے ڈومیسٹک سیل انوائس (ڈی ایس آئی)کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے ۔

نئے نظام کے تحت رجسٹرڈ پٹرول پمپس اور خریداروں کو خرید و فروخت کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں این ٹی این، شناختی کارڈ نمبر، خریدار کا نام، خریداری کی نوعیت، فروخت کی مقدار، مالیت اور لیوی کی شرح شامل ہوں گی۔ اگر کسی خریدار کو پی ڈی ایل میں چھوٹ یا زیرو ریٹ سہولت حاصل ہو تو اس کا حوالہ بھی متعلقہ ایس آر او اور شیڈول کے ساتھ دینا ہوگا۔ایف بی آر حکام کے مطابق سیلز ٹیکس ریٹرن فارم ایس ٹی آر7 کے اینکسچر ایل میں بھی ترامیم کی گئی ہیں تاکہ لیوی وصولی کا نظام مزید شفاف بنایا جا سکے ۔ کلائمٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل)فنانس بل 2025 کے ذریعے متعارف کرائی گئی تھی، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہے اور اس کا مقصد ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل فراہم کرنا ہے ۔ایف بی آر کے مطابق ٹیکس کی شرح یا وصولی کے مدات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تاہم اب یہ ادارہ وزارت پٹرولیم کی جانب سے بطور وصولی ایجنٹ کام کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں