امریکا کو جواب کا انتظار ، ایران خاموش : واشنگٹن کی تہران پر دبائو بڑھانے کیلئے مزید 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں برطانیہ نے جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج دیا

امریکا کو جواب کا انتظار ، ایران خاموش : واشنگٹن کی تہران پر دبائو بڑھانے کیلئے مزید 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں برطانیہ نے جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج دیا

چین ،ہانگ کانگ کی کمپنیوں سمیت پابندی کی زد میں آنے والوں پر تہران کو اسلحہ فراہمی کا الزام ،مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں:امریکی محکمہ خزانہ، معاہدہ نہ ہوا تو پراجیکٹ فریڈم پلس ہوگا:ٹرمپ امریکی فریق کی نیت و سنجیدگی کے بارے میں شکوک مزید بڑھ گئے :عباس عراقچی، اسلام آباد میں آئندہ ہفتے دوبارہ مذاکرات متوقع:امریکی اخبار ، ٹرمپ چین جانے سے پہلے پاکستان آسکتے :ذرائع

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کو مشرق وسطٰی میں جنگ کے خاتمے کیلئے تازہ مذاکراتی تجاویزپر تہران کے جواب کا انتظار ہے مگر ایران نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ،آبنائے ہرمز کے اطراف ہفتے کے روز نسبتاً سکون کی فضا برقرار رہی مگر چند روز سے جاری وقفے وقفے کی جھڑپوں کے بعد ایران نے ہفتے کے روز امریکی سفارتکاری کی سنجیدگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ واشنگٹن نے تہران پر دباؤ بڑھانے کیلئے مزید 10افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں اور برطانیہ نے جنگی بحری جہاز مشرق وسطٰی بھیج دیاہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ انہیں جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات کے آغاز سے متعلق واشنگٹن کی نئی تجویز پر ایران کا جواب شاید آج رات موصول ہو جائے گا۔تاہم اگر ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے کوئی جواب بھجوایا بھی تو اس کا کوئی عوامی اشارہ سامنے نہیں آیا، تجویز کے تحت متنازعہ امور، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل جنگ کا باضابطہ خاتمہ کیا جانا تھا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معاملات طے نہ پائے تو ہم مختلف طریقہ کار اپنائیں گے۔انہوں نے کہا پاکستان کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم ملتوی کیا ہے ، تاہم اگر معاملات حل نہ ہوئے تو اسے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے ،اب کی بار پراجیکٹ فریڈم پلس ہو گا،پراجیکٹ فریڈم کے ساتھ دیگر چیزیں ہوں گی۔جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی قیادت کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھایا ہے ۔عراقچی نے کہاخلیج فارس میں امریکی افواج کی جانب سے حالیہ کشیدگی میں اضافہ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مبنی متعدد اقدامات نے سفارتکاری کے راستے میں امریکی فریق کی نیت اور سنجیدگی کے بارے میں شکوک و شبہات مزید بڑھا دئیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے چین کے طویل عرصے سے متوقع دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جس کے باعث اس تنازع کو ختم کرنے کیلئے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے اور عالمی معیشت کیلئے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔

امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے پابندیاں بھی مزید سخت کر دیں۔ٹرمپ کے چین کے دورے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند روز قبل امریکی محکمہ خزانہ نے 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا اعلان کیا، جن میں چین اور ہانگ کانگ کی کئی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی فوج کو اسلحہ اور وہ خام مال فراہم کرنے میں مدد دی جو تہران کے شاہد ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے ۔امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایران کی غیر قانونی تجارت میں مدد دینے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی کے خلاف کارروائی کیلئے تیار ہے ، جبکہ چین کی آزاد آئل ریفائنریوں سے منسلک غیر ملکی مالیاتی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ادھر برطانیہ نے اپنا جنگی بحری جہاز (ڈسٹرائر)ایچ ایم ایس ڈریگن مشرقِ وسطٰی کی جانب روانہ کر دیاہے ،برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اقدام ممکنہ بین الاقوامی مشن کی تیاری کا حصہ ہے ، جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس مشترکہ طور پر کریں گے ،فرانس پہلے ہی اپنا بحری سٹرائیک گروپ جنوبی بحیرہ احمر میں تعینات کر چکا ہے ۔

سٹاک ہوم میں گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ یورپی ممالک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد پر متفق ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے ۔امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے ، اس عمل کا مقصد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے ۔جبکہ ذرائع کا کہنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے پاکستان آمد کے قوی امکانات ہیں، وہ چین جانے سے پہلے کچھ گھنٹوں کیلئے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کریں گے ، جس کی گزشتہ کئی مہینوں سے تیاریاں جاری ہیں ۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں میں اہم بریک تھرو اور بڑے معاہدے ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں