بے گناہ کو سزا سے بہتر 10 گناہ گار بری ہو جائیں : سپریم کورٹ

بے گناہ کو سزا سے بہتر 10 گناہ گار بری ہو جائیں : سپریم کورٹ

ملزم کو معقول شک کافائدہ دینا عایت نہیں بلکہ اس کا قانونی حق ہے :عدالت مفروری ضمنی شہادت ،بنیادی ثبوت نہیں ،20 سالہ پرانے قتل کیس کاملزم بری

اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے 20 سالہ پرانے قتل کیس میں ملزم محمد اقبال کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور قرار دیا ہے کہ فوجداری نظام انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کر دینا بہتر ہے ۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ ملزم کے خلاف الزام شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ گواہوں کے بیانات میں اہم تضادات اور خامیاں موجود تھیں۔ صرف مفرور رہنے کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کوئی ملزم گرفتاری کے خوف یا پولیس ہراسانی سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر روپوش ہو سکتا ہے ۔مفروری زیادہ سے زیادہ ایک ضمنی شہادت ہو سکتی ہے لیکن اسے بنیادی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، خصوصا ًایسے حالات میں جب استغاثہ کی عینی شہادت خود مشکوک ہو۔ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی ایک بھی پہلو سے معقول شک پیدا ہو جائے تو فائدہ ملزم کو دینا لازم ہوتا ہے اور یہ رعایت نہیں بلکہ اس کا قانونی حق ہے ۔فیصلے میں اسلامی فقہ کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ صدیوں پہلے یہ اصول طے کر دیا گیا تھا کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ کئی گناہ گار افراد بری ہو جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں