پاکستان کو معاشی خودمختاری کی جنگ بھی جیتنا ہوگی : احسن اقبال

 پاکستان کو معاشی خودمختاری کی جنگ بھی جیتنا ہوگی : احسن اقبال

پائیدار ملکی ترقی کا واحد راستہ برآمدات ، حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں قرضوں کے چکر سے نکلنے کیلئے ملک کو پیداواری صلاحیت بڑھانا ہوگی :خطاب

لاہور (کامرس رپورٹر،اے پی پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد اب پاکستان کو معاشی خود مختاری کی جنگ بھی جیتنا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد،سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور برآمدات میں غیر معمولی اضافے کی ضرورت ہے ، پائیدار ملکی ترقی کا واحد راستہ برآمدات ہیں، حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں سافا سمٹ اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کیا۔ سمٹ میں صدر سافا ہمایوں کبیر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ لاہور چیمبر کے اجلاس میں صدر فہیم الرحمٰن سہگل،سینئر نائب صدر تنویر شیخ، سابق صدر محمد علی میاں، سابق نائب صدر شاہد نذیر ، پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی اور دیگر موجود تھے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ پالیسیوں کا عدم تسلسل رہا ہے ، جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں،اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے اور افسران خوف کا شکار ہوں تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے ، قرضوں کے چکر سے نکلنے کیلئے ملک کو پیداواری صلاحیت بڑھانا ہوگی ۔معرکہ حق کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ مضبوط ملکی دفاع کو مضبوط معیشت کے بغیر دیرپا نہیں بنایا جا سکتا،اگر آئندہ دس برسوں میں برآمدات، صنعتی ترقی اور معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے تو پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے ،2035ء تک 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف پاکستان کیلئے اتنا ہی اہم ہے جتنا ایٹمی صلاحیت کا حصول تھا ،چینی مارکیٹ میں سنجیدہ اور منظم انداز میں داخل ہونے کی ضرورت ہے ،پاکستان کا ٹیکس بمقابلہ مجموعی قومی پیداوار تناسب صرف 10اعشاریہ 5 فیصد جبکہ کامیاب ممالک میں شرح 15 سے 16 فیصد تک ہوتی ہے ،جب تک ٹیکس نیٹ وسیع اور ٹیکس چوری کا خاتمہ نہیں ہوگا، ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔ فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ صرف دس ماہ میں تقریباً 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ، اس لئے ملک کو فوری طور پر مضبوط برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں