افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتے ہیں : پاکستان نے افغان ناظم الامورکو طلب کرکے وارننگ دیدی

 افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتے ہیں : پاکستان نے افغان ناظم الامورکو طلب کرکے وارننگ دیدی

بنوں حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی ، دہشتگردی کیخلاف جنگ مشترکہ مقصد ،افغان طالبان کو اپنی سرزمین دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے کے وعدے کی پاسداری کرناہوگی طالبان عملی اقدامات میں ناکام رہے ، احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا، سندھ طاس معاہدے پر قانونی راستے استعمال کرینگے ، پاکستانیوں کی رہائی کیلئے صومالیہ سے رابطے جاری: ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے بزدلانہ حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان حکام کے حوالے احتجاجی مراسلہ بھی کیااور وارننگ دی کہ افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک شہری سمیت 4 افراد زخمی ہوئے ۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ نے افغان ناظم الامور کو آگاہ کیا کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی۔ پاکستان نے ایک بار پھر افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے مسلسل استعمال پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان فریق پر واضح کیا کہ پاکستان اس بربریت کے مرتکب عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔

یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ افغان سرزمین پر مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی کی جا چکی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے اور افغان طالبان کو اپنے اس وعدے کی پاسداری کرنا ہوگی کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینگے ۔پاکستان بارہا افغان طالبان رجیم پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش/آئی ایس کے پی عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے ۔ پاکستان نے برادر اور دوست ممالک کی ثالثی میں ہونے والے کئی مذاکراتی ادوار کے ذریعے افغان طالبان رجیم کے ساتھ تعمیری روابط بھی رکھے تاہم افغان طالبان مسلسل ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بامعنی اور قابل تصدیق کارروائی کے وعدوں اور عملی اقدامات میں ناکام رہے ہیں۔

افغان طالبان رجیم کو دوٹوک انداز میں آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر اس نے ان دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینا جاری رکھا تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ و سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ، تاہم معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں ہوگی یا کسی اور مقام پر، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی اور جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور دیا ہے ۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان تمام قانونی راستے استعمال کرے گا جبکہ انڈس واٹر کمشنر اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر مکمل توجہ دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں قزاقوں کی جانب سے پاکستانیوں کی حوالگی کے معاملے پر صومالیہ سے رابطہ بھی جاری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں