مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: ڈی اے پی کھاد بحران کا خدشہ

 مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: ڈی اے پی کھاد بحران کا خدشہ

خام مال اور سلفر کی سپلائی بند ہو چکی، معاملہ براہِ راست فوڈ سکیورٹی سے جڑا: حکام کھاد قلت سے بچنے ، سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں:علی پرویز

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات پٹرولیم مصنوعات کے بعد فرٹیلائزرز پر بھی آنے لگے ہیں۔ حکومتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈی اے پی کھاد کا بحران سر اٹھا سکتا ہے اور یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔حکام کے مطابق ڈی اے پی کھاد میں استعمال ہونے والا خام مال مراکش سے آتا ہے جبکہ اس خام مال کی تیاری کیلئے سلفر استعمال کیا جاتا ہے جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیا جاتا ہے ، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث مڈل ایسٹ کے مختلف ممالک سے سلفر کی سپلائی بند ہو چکی ہے ۔پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ پاکستان کو بھی خدشہ ہے کہ ڈی اے پی کھاد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور یہ معاملہ براہِ راست فوڈ سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے ۔دوسری جانب یوریا کے بحران سے بچنے کیلئے حکومت نے فرٹیلائزر کمپنیوں کو گیس کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

روزنامہ دنیا کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختلف پلانٹس کو فراہم کی جا رہی ہے ۔پاکستان میں مجموعی طور پر کھاد کے 10 پلانٹس ہیں جن میں سے سات پلانٹس کو ماڑی پٹرولیم کے ڈیڈیکیٹڈ گیس فیلڈز سے گیس فراہم کی جاتی ہے جبکہ باقی تین پلانٹس کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جا رہی ہے ۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اس وقت دو پلانٹس کو 86 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کر رہی ہے جن میں ایگری ٹیک اور فاطمہ فرٹیلائزرز شامل ہیں۔ جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی 64 ایم ایم سی ایف ڈی گیس صرف ایک پلانٹ فوجی فرٹیلائزر کو فراہم کر رہی ہے ، جسے پورٹ قاسم سے گیس دی جا رہی ہے ۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک میں کھاد کی قلت پیدا نہ ہو، اس کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کھاد کی سمگلنگ روکنے کیلئے بھی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ مقامی کسان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں