چیئر مین NIRC کا عہدہ یکم مئی سے خالی، مزید دو ہفتے مانگ رہے : ہائیکورٹ، پیر تک ایکٹنگ چارج دینے کا حکم
سمری میں ایک لائن کیوں نہیں ڈالتے کہ نیا چیئرمین آنے تک سینئر کو ایکٹنگ چیئرمین کا چارج دے دیں:عدالت عالیہ چیئرمین نہیں ہے تو مقدمات کون مارک کرے گا؟ کون بینچ بنائے گا ؟ جسٹس سردار اعجاز اسحاق، سماعت پیر تک ملتوی
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے چیئرمین اور ممبر کی تعیناتی نہ ہونے کے خلاف کیس میں آئندہ سماعت تک سینئر ممبر کو ایکٹنگ چارج دینے کا حکم دے دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایاکہ چیئرمین این آئی آر سی کی تعیناتی کی سمری بھیج دی گئی ہے ، دو ہفتے کا وقت دیا جائے ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ یکم مئی سے عہدہ خالی ہے ، تیرہ تاریخ ہو گئی، مزید دو ہفتے مانگے جا رہے ہیں، سمری میں ایک لائن کیوں نہیں ڈالتے کہ جب تک نیا چیئرمین آئے جو سینئر ہے اسے ایکٹنگ چیئرمین کا چارج دے دیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاتعیناتی کا معاملہ جاری ہے کچھ وقت لگے گا، عدالت وقت دے ۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا جب تک تعیناتی ہوتی ہے سینئر کو ایکٹنگ چیئرمین کا چارج دے دیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ممبرز کام کر رہے ہیں کام رکا نہیں۔ شعیب شاہین نے کہاکہ چیئرمین نہ ہو تو کوئی کام نہیں ہوتا ، بینچ کون بنائے گا،اگر یہاں چیف جسٹس نہ ہو تو دیگر ججز کیا بینچز بنا سکتے ہیں؟ وہاں بھی ایسا ہی ہے ، این آئی آر سی اس وقت غیر فعال ہے ، پورے پاکستان سے ورکرز کے کیسز اس ٹریبونل میں آتے ہیں،کسی کی ایمرجنسی ہو سکتی ہے ۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ چیئرمین نہیں ہے تو کیسز کون مارک کرے گا؟ کون بینچ بنائے گا ؟ این آئی آر سی حکام نے کہاکہ نئی فائلنگ کی مارکنگ سٹاف کرتا ہے ۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ آپ اپنا کام کریں ہمیں اپنا کرنے دیں۔ عدالت نے حکومت کو پیر تک این آئی آر سی کے سینئر ممبر کو ایکٹنگ چارج دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔