ایوان میں لڑائی سے نظم و ضبط کا فقدان واضح، سیاسی گرمی بڑھنے لگی
ایوان میں کورم بحران اور خاموش وزراء نے حکومتی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کر دئیے پارٹی اندرونی اختلافات اور قیادت کی خاموشی سے سیاسی غیر یقینی صورتحال مزید گہری
اسلام آباد (سہیل خان) پارلیمنٹ میں سیاسی کشیدگی اور تلخ جملوں کے تبادلے کے باعث ماحول انتہائی گرم رہا، پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوتے رہ گئے جبکہ ایوان میں نظم و ضبط کا فقدان واضح طور پر نظر آیا۔ سیاسی حلقوں نے صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کی سمت واضح نہیں اور اندرونی فیصلوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ بانی چیئرمین بھی حالات سے آگاہی کے باوجود واضح ہدایت دینے سے گریزاں ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، حکومتی نشستیں بھی خالی رہیں اور کورم پورا نہ ہو سکا۔ اقبال آفریدی اور جنید اکبر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جس پر ساتھی ارکان نے دونوں کو ایوان سے باہر لے جا کر صورتحال پر قابو پایا۔ اجلاس کے دوران وزراء خاموش رہے جبکہ ایوان میں غیر یقینی اور تناؤ کی کیفیت برقرار رہی۔ایوان میں عوامی مسائل، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، جعلی ادویات کی شکایات اور بجلی کے نظام پر بھی شدید بحث ہوئی۔ سیاسی ماحول میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پارلیمانی کارروائی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق ایوان میں سنجیدہ قانون سازی کے بجائے سیاسی تصادم غالب آتا جا رہا ہے ۔