سٹیل ملز کے واجبات 371 ارب 86 کروڑ روپے تک پہنچ گئے

سٹیل ملز کے واجبات 371 ارب 86 کروڑ روپے تک پہنچ گئے

2024-25 کے دوران ادارے کے مجموعی اخراجات 27 ارب 64 کروڑ رہے

 اسلام آباد(سہیل خان) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ 30 جون 2025 تک پاکستان سٹیل ملز کے مجموعی واجبات 371 ارب 86 کروڑ روپے تک پہنچ گئے جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ادارے کے مجموعی اخراجات 27 ارب 64 کروڑ روپے رہے ۔دستاویزات کے مطابق تنخواہوں اور اجرت کی مد میں ایک ارب  20 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ ایندھن، بجلی اور گیس پر 2 ارب 51 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ۔ حکومت نے رواں مالی سال پاکستان سٹیل ملز کیلئے 35 ارب روپے مختص کیے جن میں سے 28 ارب 71 کروڑ روپے ریٹائرڈ اور فارغ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی پر خرچ ہوئے ۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ یکم اپریل 2026 تک پاکستان سٹیل ملز میں ملازمین کی تعداد 729 ہے ۔دوسری جانب وزارت بحری امور نے آگاہ کیا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی کے باعث مال برداری اخراجات معمول سے پانچ گنا تک بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تین مال بردار جہاز خلیج فارس میں موجود تھے جبکہ ایم ٹی کراچی کو 15 مارچ کو مشرق کی جانب سفر کی اجازت دی گئی۔ وزارت کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث مال برداری کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ وزیر صحت مصطفی کمال نے ایوان کو بتا یا کہ ملک میں 80 فیصد افراد کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں اور اسی لاعلمی کے باعث لیور کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ڈریپ کی منظوری اور ریگولیشن کے بغیر کوئی دوا خریدی نہیں جا سکتی۔ پاکستان میں ماہرینِ نفسیات کی کل تعداد تقریبا 804 ہے ۔ وزارت ریلوے نے انکشاف کیا کہ پاکستان ریلوے نے 2024-25میں 2 ارب 41 کروڑ روپے منافع کمایا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں