مہنگاپٹرول:وفاقی حکومت، اوگرا، وزارت ِپٹرولیم سے جواب طلب
حکومت شفاف فارمولے کے بغیر نرخ بڑھا رہی ،موجودہ دور میں186 فیصد اضافہ ہو چکا خطہ کے مقابلے میں پٹرول مہنگا ،ہائیکورٹ سے نرخوں میں اضافہ کالعدم قرار دینے کی استدعا
لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہورہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت ، اوگرا اور وزار ت پٹرولیم سے جواب طلب کرلیا۔جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ حکومت پٹرول قیمتیں شفاف فارمولے اور آئینی جواز کے بغیر بڑھا رہی ہے ، موجودہ دور حکومت میں نرخوں میں تقریباً 186 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سمیت خوراک، زراعت اور بجلی کا بحران بھی بڑھ گیاہے ، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، سعودی عرب اور یو اے ای کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول مہنگا ہے ،پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مسلسل اضافہ غیر آئینی ہے جسے بڑھانے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے ، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے اضافی ٹیکس وصول کرنا غیر آئینی ہے ، پٹرول قیمتوں میں اضافہ آئین کے آرٹیکل 3، 4، 9، 37 اور 38 کی خلاف ورزی ہے ،پٹرولیم لیوی کی قانونی حیثیت پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ،حکومت عوام پر معاشی بوجھ منتقل کر کے استحصال کر رہی ہے ، عدالت پٹرولیم نرخوں میں حالیہ اضافے کو کالعدم قرار دے ۔