کراچی:انمول پنکی 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے سپرد
جوڈیشل مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار ، پراسیکیوشن کی درخواست پر حکم جاری کمیٹی بنادی ،کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے خود نگرانی کر رہا،پراسیکیوٹر جنرل ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹادیا گیا، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ مقرر
کراچی (سٹاف رپورٹر)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے معاملے میں پراسیکیوشن کی نظرثانی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کو 13 مئی سے 15 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے ۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ وومن جیل کو ہدایت کی کہ ملزمہ کی کسٹڈی تفتیشی افسر کے حوالے کی جائے ۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست بھی کرسکتے ہیں۔ دوران سماعت ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے خلاف بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ بھی درج ہے اور قتل جیسے سنگین نوعیت کے مقدمے میں مؤثر تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر تھا۔
عدالت نے چار مقدمات میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو پولیس ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ ادھر قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس میں پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے ریمانڈ پیپر میں جسمانی ریمانڈ کے لیے کافی مواد موجود تھا جبکہ ملزمہ سے منشیات کی بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی تھی۔ منتظر مہدی نے کہا کہ تفتیشی افسر کو ملزمہ کے خلاف درج پرانے مقدمات کی تفصیل بھی عدالت کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھی تاکہ کیس کی سنگینی مزید واضح ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے جرائم پیشہ ملزموں کے خلاف مؤثر تفتیش کے لیے پولیس کو جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ منشیات کے نیٹ ورک اور دیگر جرائم سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔
منتظر مہدی نے مزید بتایا کہ ملزمہ کے کیس کی نگرانی کے لیے دو اضلاع کے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور وہ خود اس کمیٹی کی نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ کے خلاف جاری تحقیقات، تفتیشی عمل اور چارج شیٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مقدمے کو مضبوط بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے ۔ دوسری جانب تحقیقات سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے ، ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے ۔ایڈیشنل آئی جی کے مطابق عرفان بلوچ عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات کریں گے جبکہ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور غفلت و لاپروائی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔