سینیٹ کمیٹی داخلہ :پنکی کے وی آئی پی صارفین کے نام طلب

 سینیٹ کمیٹی داخلہ :پنکی کے وی آئی پی صارفین کے نام طلب

جس جس نے خاتون سے منشیات خریدیں انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے :چیئرمین اجلا س میں اقبال آفریدی کے بیٹے کا بلیوپاسپورٹ پر اٹلی جا کر سیاسی پناہ لینے کا انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں منشیات سپلائی کے وائرل پنکی کیس کا معاملہ سینیٹ تک پہنچ گیا ، جہاں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسدادِ منشیات فورس کو  طلب کر لیا ہے ۔سینیٹر فیصل سلیم الرحمن کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے ان تمام مبینہ وی آئی پی صارفین کی فہرست طلب کر لی جنہیں ملزمہ کی جانب سے منشیات فراہم کئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تمام افراد کے نام سامنے لائیں جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق اس نیٹ ورک سے رہا ہے ، خواہ وہ ججز ہوں، بیوروکریٹس یا سیاستدان۔یہ معاملہ ایک وسیع نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے اور اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ منشیات استعمال کرنے والے افراد کو بحالی مراکز بھیجا جائے۔


سینیٹر فیصل سلیم نے خود کو پہلے ڈرگ ٹیسٹ کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظام کی صفائی کا آغاز خود سے ہونا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اختیار ہوتا تو وہ اس جج کا بھی میڈیکل ٹیسٹ کرواتے جس نے مبینہ طور پر ملزمہ کو ضمانت دی۔سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ ملزمہ عدالت میں کھلے عام پیش ہو رہی ہے ، جس سے قانون کے کمزور ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے ۔ سینیٹر عابد شیر علی نے اسلام آباد میں جرائم کی صورتحال پر سوال اٹھایا، جس پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اب بھی دیگر شہروں کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ ہے تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے جنہیں سمارٹ سٹی منصوبے کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے ۔وزیرِ مملکت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاسپورٹس کے غلط استعمال پر پاکستان کو سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت نے ڈپلومیٹک اور آفیشل (بلیو)پاسپورٹس کے اجرا کے قواعد سخت کر دئیے ہیں اور ان کی تعداد میں نمایاں کمی کی گئی ہے ، اب یہ صرف انتہائی ضروری صورتوں میں جاری کئے جائیں گے ۔

طلال چودھری نے انکشاف کیا کہ تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کا بیٹا بلیو پاسپورٹ پر اٹلی گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ لے لی،یہ اطلاع سفارتی ذرائع سے پاکستان تک پہنچی جو کہ ملک کیلئے شدید بدنامی کا باعث بنی۔ مرزا اقبال آفریدی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں نے بیٹے کے حوالے سے سوالات کئے جس پروہ سیخ پا ہوگئے ۔ اقبال آفریدی نے کہاکہ یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا، یہاں امن ہے اور نہ سیاسی استحکام ہے ، آئے روز جب دہشت گردی ہوگی تو یہ بچے کہاں جائیں گے ، میرے بیٹے نے اگر اسائلم لیا ہے تو پہلے بھی تو کتنے بچوں نے لیا ہے ، اس ملک سے ملٹی نیشنل کمپنیاں چلی گئی ہیں، یہ ملک اب رہنے کیلئے محفوظ نہیں۔اقبال آفریدی نے کہا کہ میں سمجھ گیا ہوں کہ بانی چیئرمین کو رہا نہیں کیا جانا تو یہ ملک رہنے کے قابل نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں