ایف ڈبلیو ایم سی میں ایک ارب کی کرپشن، مقدمہ درج

ایف ڈبلیو ایم سی میں ایک ارب کی کرپشن، مقدمہ درج

نجی کنٹریکٹر کمپنی نے افسروں کی ملی بھگت سے خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا منی ڈمپرز کی جگہ لوڈر رکشے استعمال ، ورکرز کی جعلی حاضریوں پر تنخواہیں نکلوائیں

فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے ) فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ طور پر ایک ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے ، جس پر محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر لیا۔تحصیل سٹی اور صدر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی نے 2024 میں حاصل کیا تھا، جبکہ منصوبے کا باقاعدہ آغاز نومبر 2024 میں ہوا۔الزام ہے کہ نومبر 2024 سے اپریل 2026 تک کنٹریکٹر کمپنی نے ایف ڈبلیو ایم سی کے بعض افسران و اہلکاروں سے مبینہ ملی بھگت کر کے مالی بے ضابطگیوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو خطیر نقصان پہنچایا۔تحقیقات کے مطابق 2317 کنٹینرز ظاہر کر کے ادائیگیاں حاصل کی گئیں جبکہ موقع پر صرف 1717 کنٹینرز موجود تھے ۔

اسی طرح منی ڈمپرز کی جگہ لوڈر رکشے استعمال کیے گئے مگر ادائیگیاں منی ڈمپرز کے حساب سے وصول کی گئیں۔مزید الزام ہے کہ 633 مبینہ گھوسٹ سینٹری ورکرز کی جعلی حاضریاں لگا کر تنخواہیں نکلوائی گئیں جبکہ 118 ویسٹ انکلوژرز ظاہر کیے گئے مگر صرف 33 تعمیر کیے گئے ۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر موجود عارضی کولیکشن پوائنٹس کے بل بھی سرکاری خزانے سے وصول کیے گئے جبکہ گاڑیوں کے ٹریکرز کا ڈیٹا مبینہ طور پر تبدیل کر کے اضافی ادائیگیاں حاصل کی گئیں۔مقدمے میں سابق سی ای او محمد رئوف، منیجر آپریشنز عبداللہ نذیر باجوہ، منیجر آئی ٹی اسد الٰہی، منیجر فنانس احسن ندیم، ٹرانسپورٹ آفیسر ارشد سلیم، سینٹری انسپکٹر عابد، منیجر پروکیورمنٹ وقاص اصغر، ڈسٹرکٹ منیجر آپریشنز حافظ طیب، رائے قمر الزمان، محمد شفیق، محمد قیصر خان اور محمد فاروق خان سمیت دیگر افراد انکوائری کی زد میں آئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں