پولیو قطرے پلانے سے انکار پر 1 لاکھ جرمانہ ، بل اسمبلی میں پیش
پیدائشی خوراک کا ثبوت پیش کئے بغیر برتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائیگا پولیو ورکرز کو دھمکانے ، حملہ کرنے پر 7 سال، رکاوٹ ڈالنے پر 3ماہ قید ہوگی
اسلام آباد(فوزیہ علی)ملک کو پولیو سے مکمل پاک کرنے کیلئے اہم قانون سازی کی تیاری کرلی گئی، قومی اسمبلی میں پولیو کا خاتمہ و بحالی بل 2026 پیش کردیا گیا ،مجوزہ بل میں فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو دھمکانے ، حملہ کرنے پر 7 سال قید ،رکاوٹ ڈالنے پر 3 ماہ قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکے گی ، جان بوجھ کر بچے کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار پر 50 ہزار سے ایک لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے ، بل سید وسیم حسین نے پیش کیا، جس میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر سخت سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ بل کے مسودے میں کہا گیا کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانا لازمی ہیں ویکسی نیشن کے بعد بچے کو نادرا کے زیر انتظام این آئی ایم ایس کے ذریعے ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا ، پولیو ویکسین کی پیدائشی خوراک پلانے کا ثبوت پیش کرنے یا 15 دن کے اندر بچے کو ویکسین پلانے کی ضمانت دینے تک برتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
مجوزہ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تعلیمی ادارے بچوں کے داخلے کے وقت 10 سال سے کم عمر بچے کے پولیو ویکسی نیشن کے کارآمد کارڈ طلب کرنے کے پابند ہوں گے ۔ تاہم کارڈ پیش نہ کرنے کی صورت میں بچے کو قریبی ویکسی نیشن سنٹر منتقل کیا جائے گا اور 30 دن تک عارضی عارضی داخلے کی اجازت دی جائے گی ، اسی طرح ہائی یا ہائر سیکنڈری سکول کے امتحانات میں شریک 18 سال سے کم عمر طلبہ کو پولیو ویکسی نیشن کا کارڈ پیش کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے تاہم طبی عذر پیش کرنے پر استثنیٰ دیا جائے گا۔مجوزہ بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پولیو سرٹیفکیٹ پیش نہ کر نے والے 18 سال سے کم عمر بچے کو پاسپورٹ کا اجرا یا تجدید نہیں کی جائے گی۔ 30 دن کے اندر ویکسی نیشن مکمل کرنے کا اقرار نامہ پیش کرنے پر استثنیٰ ملے گا تاہم این آئی ایم ایس کے ذریعے تصدیق لازمی ہوگی۔ اسلام آباد میں پولیو کیسز، بحالی کی خدمات اور نگرانی کیلئے ایک نیشنل پولیو رجسٹری قائم کرنے کی تجویز بھی بل میں شامل ہے ۔