ملزم کو شک کا فائدہ دینا فوجداری قانون کا اصول:سپریم کورٹ
منشیات کے نمونوں کی محفوظ ترسیل ثابت کرنا استغاثہ کی قانونی ذمہ داری ہائیکورٹ اور اے این ایف عدالت کے فیصلے کالعدم، ملزمہ کی فوری رہائی کا حکم
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کے منشیات مقدمات میں پولیس رولز کے تحت روزنامچہ اندراج، شفاف تفتیش اور منشیات کے نمونوں کی محفوظ ترسیل ثابت کرنا استغاثہ کی قانونی ذمہ داری ہے بصورت دیگر ملزم کو شک کا فائدہ دیا جائے گا۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ وجاہت بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ اے این ایف حکام کے بیانات میں برآمدگی کے طریقہ کار، موقع پر کارروائی اور نجی گواہوں کی شمولیت سے متعلق سنگین تضادات پائے گئے ۔ تفتیشی افسر نے وہ روزنامچہ اندراجات بھی عدالت میں پیش نہیں کیے جن سے ثابت ہو سکتا تھا کہ اے این ایف ٹیم خفیہ اطلاع پر کارروائی کیلئے روانہ ہوئی تھی۔ استغاثہ منشیات کے نمونوں کی محفوظ تحویل اور لیبارٹری تک ترسیل کا غیر منقطع سلسلہ بھی ثابت نہیں کر سکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ اگر ایک بھی ایسا پہلو سامنے آجائے جو ملزم کے خلاف شک پیدا کرے تو اس کا فائدہ ملزم کو دینا لازم ہے ۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ اور انسدادِ منشیات عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے کر وجاہت بی بی کو بری کر دیا اور فوری رہائی کا حکم دیا۔