سینیٹ تخفیفِ غربت ذیلی کمیٹی کا بیت المال کی کارکردگی پر عدم اطمینان
بھر تیاں ، تر قی، جعلی ڈگر یاں ، ناقص وہیل چیئرز خریداری پر فوری چھان بین کی ہدایت
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )سینیٹ کی تخفیفِ غربت ذیلی کمیٹی نے پاکستان بیت المال میں خلافِ ضابطہ بھرتیوں، غیر قانونی ترقیوں اور جعلی ڈگریوں کے معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام ملازمین کی ڈگریوں کی فوری جانچ پڑتال کی ہدایت کر دی ،کمیٹی نے ناقص معیار کی 1ہزار وہیل چیئرز کی خریداری کے معاملے کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی کا اجلاس بیت المال اسلام آباد میں ہوا، اجلاس کو بتایا گیا کہ منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ کو سروس رولز، ترقیوں انتظامی و مالی اختیارات حاصل ہیں ۔کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2005 سے 2018 تک ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس نہ ہونے کے بعد 2019 میں 80 ملازمین کو ترقی دی گئی۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ 191 افسران کی غیر قانونی ترقیوں کی توثیق سے متعلق سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ موجود نہیں تھا ،ان افسران کو 19 کروڑ سے زائد بیک بینیفٹس بھی ادا کئے گئے ۔ذیلی کمیٹی نے مالی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ادارہ میرٹ اور قواعد کے بجائے پسند و ناپسند پر چلایا جا رہا ہے متعدد ہدایات کے باوجود متعلقہ حکام کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے ۔ اجلاس میں جعلی ڈگریوں کے کیسز پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ،کمیٹی نے تمام ملازمین کی اسناد کی تصدیق اور معاون دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ،کمیٹی نے ایک ہزار غیر معیاری وہیل چیئرز کی خریداری سے متعلق آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ جاری انکوائری میں اصل ذمہ داروں کی نشاندہی ہو چکی ،کمیٹی آئندہ اجلاس میں مطمئن نہ ہوئی تو باضابطہ ریفرنس سپیشل آڈٹ، فرانزک آڈٹ اور کریمنل انویسٹی گیشن کے لئے ایف آئی اے کو بھیجے جائیں گے ۔