مذاکرات میں ثالثی ، پاکستان کاکردارامریکا اورایران کیلئے اہم

 مذاکرات میں ثالثی ، پاکستان کاکردارامریکا اورایران کیلئے اہم

ٹرمپ کی کھل کر تعریف محض رسمی بیان نہیں بلکہ غیرمعمولی اہمیت کا اظہار بن گیا

(تجزیہ: سلمان غنی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار کی کھل کر تعریف محض رسمی بیان نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سیاست میں اس کی غیر معمولی اہمیت کا اظہار سمجھا جا رہا ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کو خطے میں ایک مو ثر اور رابطہ کار ریاست کے طور پر دیکھ رہا ہے جو سفارتی مہارت کے ذریعے بحرانوں کے حل میں کردار ادا کر سکتا ہے ، خصوصاً جنوبی ایشیا، ایران، افغانستان اور خلیجی امور میں پاکستان کی پوزیشن کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔اصل سوال یہ ہے کہ امریکا، پاکستان اور اس کی قیادت  خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کیوں سراہ رہا ہے اور کون سی قوتیں پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے ثالثی کردار سے پریشان ہیں۔ بظاہر امریکا اب خطے میں براہ راست مداخلت کے بجائے علاقائی شراکت داروں کے ذریعے استحکام چاہتا ہے اور اس تناظر میں پاکستان کو ایک اہم سفارتی پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔

اس اعتراف سے پاکستان کیلئے معاشی، سفارتی اور سکیورٹی سطح پر نئی گنجائشیں پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان کا یہ کردار اسے چین، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اس وقتی مثبت تاثر کو مستقل سفارتی اور معاشی کامیابی میں کیسے تبدیل کرتا ہے ۔ عالمی سیاست میں تعریف و توصیف اکثر مفادات سے جڑی ہوتی ہے ، اس لئے پاکستان کو اس موقع کو طویل المدتی حکمت عملی میں ڈھالنا ہوگا۔امریکاایران کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کردار ایک بڑا امتحان تھا لیکن اس کے باوجود اسلام آباد نے غیر جانبدارانہ اور متوازن سفارتکاری کے ذریعے فریقین کے درمیان رابطہ برقرار رکھا۔

پاکستان کا بنیادی مفاد یہی تھا کہ خطے میں کوئی بڑی جنگ نہ چھڑ جائے کیونکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر خصوصاً ترقی پذیر ممالک کیلئے تباہ کن ہو سکتے ہیں تاہم پاکستان کے اس کردار پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق بھارت اور بعض عالمی لابیاں اس پیش رفت سے خوش نہیں کیونکہ اگر پاکستان بطور ثالث کامیاب ہوتا ہے تو خطے میں اس کا سفارتی وزن مزید بڑھ جائے گا۔ اسی وجہ سے مختلف سطحوں پر غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں بھی ہوئیں تاہم امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے ۔صدر ٹرمپ کا یہ واضح بیان کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں شاندار کردار ادا کیا اور وزیراعظم شہباز شریف و فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف اس بات کا اظہار ہے کہ واشنگٹن اس کردار کو اہم سمجھتا ہے ۔

دوسری جانب چین، سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک بھی سمجھتے ہیں کہ خطے میں استحکام کیلئے مذاکراتی عمل ناگزیر ہے اور اس میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو وسیع تر بین الاقوامی حمایت حاصل ہے ۔اب جب امریکی صدر چین کے دورے پر ہیں تو بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقاتوں کو بھی ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ ملاقاتیں نہ صرف تجارتی امور بلکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، چین چونکہ خطے میں بڑے اقتصادی مفادات رکھتا ہے ، اس لئے وہ بھی کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے اور پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کرتا ہے ۔یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے تاہم اس کردار کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسلام آباد اسے کس حد تک منظم، متوازن اور طویل المدتی خارجہ پالیسی میں تبدیل کرتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں