28ویں آئینی ترمیم عیدالاضحیٰ کے بعد پیش ہوسکتی : اختیار ولی
26 اور 27ویں ترامیم میں رہ گئی خامیوں کودور کیا جائیگا:کوارڈینیٹر وزیراعظم آئینی ترمیم پرحکومت سے بات کرنیکاارادہ نہیں:شفیع جان،دنیا مہربخاری کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ آئین سازی اور قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اور یہی اس کا بنیادی کام ہے ، اگر پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرے گی تو پھر کون کرے گا۔ 28ویں آئینی ترمیم عیدالاضحیٰ کے بعد پیش کئے جانے کا امکان ہے اور اس پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے ۔ ان کے مطابق 26ویں اور 27ویں ترامیم میں جو خامیاں رہ گئی تھیں انہیں دور کیا جائے گا اور گورننس، صوبائی مسائل اور مرکز کے معاملات کو مدنظر رکھ کر ترمیم تیار کی جا رہی ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا انہیں امید ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتیں اس عمل میں ساتھ دیں گی جبکہ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں نے آئینی ترامیم کی حمایت کی تھی۔
معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور اس وقت حکومت سے کسی قسم کی مذاکراتی موڈ میں نہیں ہیں،عمران خان سے متعلق جب سے حکومت سے بات ہوئی ہے ، پارٹی کو بے اختیار پایا گیا ہے ۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر ہوں گے اور خیبرپختونخوا و بلوچستان کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 28ویں ترمیم کے ساتھ ساتھ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بھی مخالف رہے ہیں کیونکہ وفاق تعلیم اور صحت جیسے محکموں کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے جس کی وہ مخالفت کریں گے ۔پیپلز پارٹی سے ملاقات میں متعدد امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ اتحادی جماعتیں ساتھ دیں گی۔شفیع جان کاکہناتھاکہ جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان پیش آنے والا واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا اور یہ قابل افسوس ہے ،اقبال آفریدی کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا ۔جنید اکبر پارٹی کے سینئر رہنما اورپی ٹی آئی کے پی کے صدر ہیں، جو پارٹی کیلئے بھرپور محنت کر رہے ہیں، اس لئے احترام کا تقاضا تھا کہ معاملہ نہ بڑھایا جاتا،اقبال آفریدی کو شوکاز نوٹس بھیجنا چاہئے ۔