محسن نقوی کی ایرانی صدر،سپیکر سے ملاقاتیں،نئے مذاکرات کیلئے امریکی پیغامات موصول ہوئے:عباس عراقچی
اسلامی ممالک میں اتحاد خطے سے بیرونی طاقتوں کی مداخلت کم کر سکتا ،جنگ بندی میں پاکستانی کردار قابل تعریف :مسعود پزشکیان ، برادرانہ تعلقات کو بڑھانا چاہتے :محسن نقوی امریکا نے مذاکرات بحالی کیلئے 5شرائط رکھ دیں :ایرانی میڈیا، ایران کیلئے وقت تیزی سے ختم ہورہاجلد معاہدہ تک نہ پہنچے تو کچھ نہیں بچے گا،جنگ بندی پاکستان پر نوازش تھی :ٹرمپ امریکا کے اصل ارادوں پر شدید بداعتمادی :ایرانی وزیر خارجہ،تیسری جنگ مسلط ہوئی تو ردِعمل زیادہ جارحانہ اور حیران کن ہوگا:ابوالفضل ،دنیا نئے دور کی جانب بڑھ رہی :باقر قالیباف
تہران،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، دنیا نیوز،آئی این پی )وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی ہے ، اس موقع پرایرانی ہم منصب سکندر مومنی اور وزیرِخارجہ عباس عراقچی سے بھی موجود تھے ۔ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی تعریف کی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گی۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ مخلصانہ اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے ، اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت کے امکانات کم کر سکتا ہے۔
اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی جانب سے سرحدی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے اقدامات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، سائنسی، ثقافتی اور علاقائی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگی حالات کے باوجود ایران اور پاکستان پہلے سے زیادہ قریب آئے ہیں ، یہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اچھا موقع ہے ۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکے ، تہران و اسلام آباد کے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے ،پاکستانی عوام ایرانی قوم کیلئے دلی محبت اور احترام رکھتے ہیں۔تہران میں پاکستانی سفارتخانہ نے محسن نقوی کے دورہ ایران کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ وزیرداخلہ کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جو تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور پاک ایران تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے بھی ایران امریکا تنازع کے حل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کی۔ پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے ہوائی اڈے پرپاکستانی ہم منصب کا استقبال کیا اوربعدازاں دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی اہم ملاقات بھی ہوئی۔ اس موقع پر سکندر مومنی نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے امن کا حامی رہا ہے اور تنازع کے حل کے لیے حکومت پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں کی دل سے قدر کرتا ہے ۔ دونوں وزراء نے خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کیلئے باہمی تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم امور اور دوطرفہ تعاون سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کے حوالے سے پیغامات موصول ہوئے ہیں لیکن ہمیں اب بھی ان کے اصل ارادوں پر شدید بداعتمادی ہے ،ماضی میں مذاکرات کے دوران امریکا نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ ایران پر حملے کئے جس کے باعث یقین نہیں کہ امریکا سفارتی حل کے لیے واقعی سنجیدہ ہے ۔
ادھرامریکی صدر نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلیفونک انٹرویو میں ایک بار پھر ایران کو متنبہ کیا ہے کہ جلد از جلد جنگ بندی معاہدہ کرلے تو اس کے حق میں بہتر ہوگا، اگر جلد امن معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو بہت برے وقت کا سامنا کرنا پڑے گا،جو ان کے قریب پہنچ چکا ہے ، ایران کے حق میں یہی بہتر ہے وہ جلد از جلد ہمارے ساتھ امن معاہدہ کر لے ، مزید تاخیر برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے ،ایران کو بہت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا، وقت انتہائی اہم ہے ۔ اس سے قبل امریکی صدر نے ایران سے متعلق گفتگو میں کہا کہ ہر بار جب وہ ڈیل کرتے ہیں تو اگلے روز ایسا لگتا ہے کہ ہماری بات چیت ہوئی ہی نہیں، ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے ، اصل میں وہ پاگل ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے دوسری اقوام کے کہنے پر جنگ بندی کی، یہ جنگ بندی پاکستان پر نوازش تھی، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں شاندار شخصیات ہیں، انہوں نے مجھے حملے سے روک دیا اور کہا کہ ہم ڈیل کروا دیں گے ۔قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کیلئے معطل کرنے پر اعتراض نہیں لیکن ایران کا عزم حقیقی ہونا چاہیے ، چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور تائیوان معاملے پر بات چیت ہوئی۔ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مجھے نہیں لگتا تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے ، فی الحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے۔
کہ مذاکرات کیلئے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکا نے مذاکرات کی بحالی کیلئے پانچ شرائط رکھی ہیں ،جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا،400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کیا جائے گا،صرف ایرانی ایک جوہری تنصیب برقرار رہے گی،ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی نہیں دیا جائے گا،مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے ،دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کردہ پانچ شرائط یہ تھیں کہ تمام محاذوں خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ،ایران پر پابندیوں کا خاتمہ،ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی،ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی،آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے ۔بی بی سی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول تجاویز کے بعد گزشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔امریکا کے ایران پر ممکنہ طور پر دوبارہ حملوں کی شروعات کی اطلاعات پر ردِ عمل میں ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ اس بار ایران کا ردِعمل زیادہ جارحانہ اور حیران کن ہوگا،ایران پر مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکا کی رسوائی کی تلافی کیلئے کسی بھی احمقانہ کارروائی کا نتیجہ مزید تباہ کن اور شدید حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران میں بحران کی روک تھام اور انتظام کرنے والے ادارے کے سربراہ علی نصیری نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران دارالحکومت میں 51 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے ،ان میں سے 691 یونٹس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جبکہ 1791 یونٹس کو مکمل طور پر گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا،نقصانات کا تخمینہ عدالتی ماہرین کی جانب سے لگایا جا رہا ہے اور جن کیسز میں نقصان کی مالیت 500 ملین تومان تک ہوگی وہاں بینک شہر کی جانب سے مالکان کو الیکٹرانک کارڈز کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی،جنگ کے دوران 12 ہزار سے زائد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورئہ چین کے بعدایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں ایران مزید تیزی لانے کا باعث بن رہا ہے ،دنیا ایک نئے دور کی جانب بڑھ رہی ہے ، جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ گزشتہ صدی میں نہ دیکھی جانے والی تبدیلیاں اب دنیا بھر میں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ایرانی قوم کی 70 روزہ ثابت قدمی نے اس تبدیلی کو مزید تیز کیا ۔مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہے ۔ جبکہ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب دشمن ممالک کے فوجی ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ایران اب اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کرے گا ۔