پائپ لائن سے تیل چوری کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم

  پائپ لائن سے تیل چوری کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے آئل پائپ لائن سے تیل چوری کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تیل چوری منظم جرم تو ہو سکتا ہے لیکن اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال نے کریمنل ریویژن درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے انسداد دہشت گردی عدالت کا یکم ستمبر 2025 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت سے واپس لے کر سیشن عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کورنگی تھانے کی پولیس پارٹی نے 15 اور 16 مارچ 2025 کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پائپ لائن سے تیل چوری کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے پائپ لائن تک پہنچنے کے لیے گڑھا کھود کر پائپ نصب کیے اور تیل بیرلوں میں بھر کر ٹرک میں منتقل کیا جارہا تھا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 462-B، 462-C، 427، 380، 34 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کی گئی تھی۔ ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے میں دہشت گردی کا کوئی عنصر موجود نہیں، تاہم ٹرائل کورٹ نے درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد ملزم حسن علی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت کسی جرم کو دہشت گردی قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں عوام میں خوف و ہراس پھیلانے ، حکومت کو مرعوب کرنے یا تشدد کے ذریعے حملے جیسے عناصر موجود ہوں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تھیفٹ اور لوٹنگ میں واضح فرق موجود ہے ۔ عدالت کے مطابق ہر لوٹنگ چوری ہوسکتی ہے لیکن ہر چوری کو لوٹنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لوٹنگ عموماً جنگ، فسادات یا ہنگامہ آرائی کے دوران بڑے پیمانے پر اور پرتشدد انداز میں کی جاتی ہے جبکہ موجودہ مقدمے میں ایسا کوئی عنصر موجود نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ تیل چوری کا یہ واقعہ بظاہر منظم جرم کے زمرے میں آسکتا ہے تاہم اسے دہشت گردی یا لوٹنگ قرار دینا قانون کے دائرہ کار سے باہر ہوگا۔ عدالت نے مزید کہا کہ پاکستان پینل کوڈ میں تیل چوری کے جرائم کے لیے الگ سے سخت سزائیں موجود ہیں، اس لیے اسے دہشت گردی کے مقدمے میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کراچی سے واپس لے کر متعلقہ مجاز عام عدالت منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں