ٹرمپ کا طویل اجلاس،ایران کیساتھ معاہدے کا اعلان نہ ہوسکا

ٹرمپ کا طویل  اجلاس،ایران  کیساتھ  معاہدے  کا اعلان  نہ ہوسکا

ناکہ بندی ختم کردی جائیگی،پھنسے جہاز واپسی کا عمل شروع کرسکتے ،ہرمز بغیر ٹول ٹیکس کھلنی چاہیے ،بارودی سرنگیں ایران ہٹائے گا،افزودہ یورینیم امریکا نکالے گا،تاحکم ثانی مالی ادائیگی نہیں ہوگی:امریکی صدر بغیر ٹول ہرمز کھولنے کی کوئی شق نہیں:بقائی، 12 ارب ڈالر کی واپسی کے بغیر بات آگے نہیں بڑھے گی:ایرانی میڈیا، موثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ:ایرانی صدر،ایران کے 1ارب ڈالرکے کرپٹو اثاثے ضبط

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچوایشن روم میں ہونے والا طویل اجلاس ختم ہوگیا تاہم ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان نہ ہوسکا۔ٹرمپ نے جمعہ کی صبح کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ایک محفوظ کمرے میں اجلاس کریں گے تاکہ اس تجویز پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے ۔ اس منصوبے کے تحت اپریل کے آغاز میں ہونے والی جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی جائے گی تاکہ مذاکرات کار جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے معاہدہ تیار کر سکیں۔چند گھنٹوں بعد وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اجلاس ختم ہو گیا ہے ، تاہم مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔اجلاس سے پہلے ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے تاکہ جہاز رانی بلارکاوٹ جاری رہ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں ختم کیا جائے گا اور امریکا پہلے ہی اپنے جدید مائن سویپرز کے ذریعے کئی سرنگوں کو تباہ کر چکا ہے جبکہ باقی بارودی سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی اب ختم کردی جائے گی، اس ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز اب واپسی کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے بیان کے مطابق افزودہ جوہری مواد جو گزشتہ برس امریکی بمبار طیاروں کے حملے کے نتیجے میں زیر زمین دب گیا تھا، اسے امریکا نکالے گا۔ ان کے بقول امریکا اور چین وہ واحد ممالک ہیں جو اس کام کی تکنیکی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ قریبی تعاون سے کیا جائے گا اور افزودہ مواد کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ تاحکم ثانی کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی جبکہ دیگر کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے ، لیکن ہم بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے ۔انہوں نے مزید کہا:میں اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے ، لیکن اس وقت مجھے اس بارے میں کافی اچھا احساس ہے ۔اس سے قبل امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس کی افواج نے ایران کے پانچ حملہ آور ڈرون مار گرائے اور بندر عباس کی بندرگاہ میں ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنایا جو چھٹا ڈرون روانہ کرنے والا تھا۔ بعد ازاں کویتی افواج نے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کیا جو کویت کی جانب داغا گیا تھا، جہاں امریکا کا ایک بڑا فوجی اڈا موجود ہے ۔ایک امریکی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران کے شہر بوشہر کے قریب کوئی امریکی طیارہ مار نہیں گرایا گیا، یوں انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں ایک امریکی طیارہ تباہ کیا گیا ہے ۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا تھا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے بندر عباس حملے کے ذمہ دار امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ہے ، اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو زیادہ فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، کویت نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس سنگین کشیدگی کو روکے ۔یہ تشدد، جو اس ہفتے دوسری مرتبہ بھڑکا، عید الاضحیٰ کے موقع پر سامنے آیا، جو پورے خطے میں منائی جا رہی ہے اور جس دوران کئی ممالک اس تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔ایرانی فوج نے جزیرہ قشم کے قریب امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

امریکا نے عمان کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش میں شامل نہ ہو، جبکہ ٹرمپ نے بدھ کے روز عمان پر بمباری کی دھمکی بھی دی، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور فوجی تعلقات کی طویل تاریخ موجود ہے ۔وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ عمان کے سفیر نے انہیں بتایا ہے کہ اس نوعیت کے کسی ٹول منصوبے پر غور نہیں کیا جا رہا۔عمان نے آبنائے ہرمز پر ایران کے ساتھ مشترکہ کنٹرول کے خیال کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ بحری آمدورفت کی آزادی پر بات چیت کی ہے ۔ تہران نے امریکی حکام کی دھمکیوں کے بعد عمان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔امریکی وزیر خزانہ سے ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہٹایا جائے گا وہ آہستہ آہستہ ہٹایا جائے گا۔دریں اثنا قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔قطری امیر نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی اور تصادم سے بچنے کے لیے تمام فریقین کے درمیان مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کوششوں میں قطر کے کردار کو سراہا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی قطری کوششوں کی تعریف کی۔

تہران (نیوز ایجنسیاں )ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ابھی تک  کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کا تعین ایران اور عمان کو کرنا چاہیے ۔اسماعیل بقائی نے یہ بات ایران کے نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کی۔ اسماعیل بقائی ایرانی مذاکراتی ٹیم کے بھی ترجمان ہیں۔دوسری جانب ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے جمعہ کے روز باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے ممکنہ معاہدے سے متعلق تازہ بیانات "سچ اور جھوٹ کا مرکب" ہیں۔ فارس کے مطابق: ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے کھولنے کا پابند ہوگا، حالانکہ معاہدے کے متن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے کے بارے میں ہم آہنگی کے دعوے پر فارس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے واضح کیا کہ نہ صرف یہ بات مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں بلکہ یہ دعویٰ بنیادی طور پر بے بنیاد ہے ۔ ایران کے جوہری مواد کی تباہی بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے ۔

ذرائع کے مطابق ایران نے منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ جب تک یہ ادائیگی نہیں کی جاتی، ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے میں نہیں جائے گا۔ لبنان کے حوالے سے تہران نے ایک بار پھر مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جو حزب اللہ کے مطالبات کے مطابق ہو، اور کہا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی پر فوری جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو ٹیلی فون پر عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی ہے اور سفارتکاری سے متعلق امور پر بھی بات کی ہے ۔صدر پزیشکیان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی پر مبنی مؤقف اختیار کرنے پر ملائیشیا اور امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مؤثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا ایران کی پالیسی یہ ہے کہ وہ مسلم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دے ۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی پارلیمنٹ کے نئے سیشن کے افتتاح کے موقع پر اپنے بیان میں ایرانی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایرانی عوام میں انتشار کے بیج بونا چاہتا ہے ، دشمن ایک کے بعد دوسری سازش رچا رہا ہے ، ایرانی عوام قومی اتحاد اور یکجہتی قائم رکھیں، امریکا کو جنگ میں شکست ہوچکی ہے اور اب نئی چالیں چل رہا ہے تاکہ ایرانی قوم میں سماجی تقسیم پیدا کرسکے ، جنگ مسلط کرنے ، اقتصادی دباؤ ڈالنے اور پروپیگنڈے کے بعد اب دشمن نئے منصوبے بنا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں