پاکستان کیساتھ حقیقی دوستی آگے بڑھ رہی ہے، امن کیلئے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی کوششیں قابل تعریف : معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ حملے : امریکی وزیر دفاع
پاکستان بھارت بین البراعظمی بیلسٹک میزائل جیسی صلاحیتیں تیار کرنا چاہیں گے ، ہم کسی کو خطرہ قرارنہیں دے رہے :ہیگستھ،ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سپلائی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں،ایران جانیوالا تجارتی جہاز ناکارہ بنا دیا ٹرمپ کی تیسری بار سفارت کاری سے غداری:مشیر ایرانی سپریم لیڈر ، ہرمز سے مزید 24جہاز گزر گئے ،نظم و نسق کیلئے پارلیمنٹ میں بل کی تیاری،جہازوں سے عارضی ٹول ٹیکس کی وصولی جائز:قطری نائب وزیراعظم
تہران، واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے ۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات کار معاہدے کی راہ میں حائل بڑے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہیگستھ نے سنگاپور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی ہماری صلاحیت مکمل طور پر موجود ہے ، ہم اس کے لیے بھرپور طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہاہمارے ذخائر اس مقصد کے لیے کافی سے زیادہ موزوں ہیں، چاہے وہاں ہوں یا دنیا کے دیگر حصوں میں، اس لیے ہم ایک بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔انہوں نے کہاہم ایک وقت میں دو کام کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی دفاعی صنعتی صلاحیت کو تیزی سے بڑھا رہے ہیں تاکہ بہت جلد ہم دو گنا، تین گنا، حتیٰ کہ چار گنا تک اسلحہ تیار کر سکیں، تاکہ دنیا بھر میں ہمارے تمام آپریشنل منصوبے مناسب طور پر مالی معاونت کے ساتھ چل سکیں۔
پینٹاگون کے سربراہ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت صبر کر رہے ہیں اور وہ ایک ایسا بڑا معاہدہ چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک حقیقی دوستی پروان چڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کی ۔ہیگستھ سے سابق ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ پاکستان کی مستقبل کی میزائل صلاحیتیں ممکنہ طور پر امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اور یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا بھارت کا اگنی-6 میزائل پروگرام بھی اسی نوعیت کا خطرہ پیدا کرتا ہے ۔ یہ سوال اس وقت اٹھایا گیا جب ہیگستھ نے اپنی تقریر میں انڈو پیسیفک اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ امریکی دفاعی تعاون کی تعریف کی، اور بھارت کو بھی سراہتے ہوئے اسے استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا۔
انھوں نے جواب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا میں نے یہاں بھارت کا ذکر کیا، لیکن میں اتنی ہی آسانی سے پاکستان اور امن مذاکرات میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم کے کردار کا بھی ذکر کر سکتا تھا، ان کا مزید کہنا تھا میرے خیال میں ایک غیر متوقع پیش رفت اور ایک حقیقی دوستی وہاں پروان چڑھ رہی ہے ، جو میرے نزدیک اہم ہے ، یہ واضح کرتے ہوئے کہ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں، ہیگستھ نے کہا: میرا خیال ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے ایسے خطرات محسوس کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے نقطئہ نظر سے جائز سمجھتے ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض کو ہم مختلف انداز میں دیکھتے ہیں، اور ممالک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم ) جیسی صلاحیتیں تیار کرنا چاہیں گے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا: لیکن کم از کم ہمارے نقطئہ نظر سے ، ہم اس وقت کسی بھی ملک کی طرف انگلی نہیں اٹھا رہے اور نہ ہی انہیں اپنے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن معاہدہ صرف اسی صورت میں کریں گے جب وہ ان کی تمام شرائط پر پورا اترے گا۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سچویشن روم کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اور یہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکا کے لیے بہتر ہو اور ان کی طے شدہ حدود کو پورا کرتا ہو۔ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے کے اجلاس میں شرکت کی لیکن وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام )نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے جمعہ 29 مئی کو خلیجِ عمان میں بحری ناکہ بندی نافذ کرتے ہوئے گیمبیا کے پرچم بردار تجارتی جہاز کو ناکارہ بنا دیا جو ایران کی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ 20 سے زائد بار وارننگ جاری کرنے کے بعد امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بناتے ہوئے ہیل فائر میزائل فائر کیا، جس کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا۔امریکا نے ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سپلائی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ نیٹ ورک جعلی ویب سائٹس اور دھوکہ دہی کے ذریعے درجنوں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے قیمتی آلات حاصل کرتا رہا، جنہیں بعد میں ایران کے دفاعی شعبے تک سمگل کیا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار ایران میں مقیم علی مجد سپہر تھا۔قطر کے امیر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ‘‘باعزت فریم ورک’’ تک پہنچنے کے لیے تیار ہے ۔ قطر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے عارضی ٹول ٹیکس وصولی کو جائز قرار دے دیا تاہم مستقل بنیادوں پر اس ٹیکس کو مسترد کردیا ہے ۔ قطر کے نائب وزیراعظم شیخ سعود عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ ایران بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر ضروری امور کے لیے ٹول ٹیکس وصول کرتا ہے تو کچھ عرصے کے لیے اس وصولی پر بات ہوسکتی ہے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے 47 سال قبل تحکمانہ لہجے سے جان چھڑا لی تھی ۔ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ، لیکن ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کے ذریعے تیسری بار سفارت کاری سے غداری کا الزام عائد کیا ہے ۔محسن رضائی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مذاکرات کار کے اہل نہیں ہیں اور دیگر مقاصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی بحریہ کے تعاون اور سکیورٹی نگرانی میں 24 تجارتی بحری جہازوں نے بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے ۔
بیان کے مطابق ان جہازوں میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز بھی شامل تھے، جنہوں نے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے سفر کیا اور اس دوران انہیں ایرانی بحریہ کی سکیورٹی حاصل رہی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز پر مسلسل اور کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا خطرے کا ‘فیصلہ کن جواب’ دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے پریذیڈیم کے ایک رکن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی نظم و نسق اور خودمختاری کے اطلاق سے متعلق ایک منصوبے کو جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ارکانِ پارلیمنٹ میں شامل علی رضا سلیمی نے سرکاری خبر رساں ادارے اسنا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تفصیلی جائزہ لیا جا چکا ہے اور اس ضمن میں معیشت، نقل و حمل، سلامتی اور دیگر متعلقہ اداروں کی آرا بھی حاصل کی گئی ہیں۔اس معاملے پر مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے ۔