انکوائری کی بنیاد پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جاسکتے : سندھ ہائیکورٹ

انکوائری کی بنیاد پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جاسکتے : سندھ ہائیکورٹ

پاسپورٹس، اکاؤنٹس ، موبائل والٹ اکاؤنٹس بلاک کرنیکا معاملہ ،عدالت سخت برہم ،ریاستی ادارے قانون کے پابند انکوائری آڑ میں ہراساں یا تذلیل نہیں کر سکتے ،ڈی جی ایف آئی اے طرز عمل کا جائزہ لیں،توہین عدالت کارروائی کاانتباہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کے پاسپورٹس، بینک اکاؤنٹس اور موبائل والٹ اکاؤنٹس  بلاک کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض انکوائری کی بنیاد پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر درخواست گزاروں کے پاسپورٹس، بینک اکاؤنٹس یا دیگر سہولتیں صرف متنازع انکوائری یا خط و کتابت کی بنیاد پر بلاک کی گئی ہیں اور کسی مجاز عدالت یا اتھارٹی کا قانونی حکم موجود نہیں تو انہیں فوری بحال کیا جائے ۔ سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے محمد سعید خان اور دیگر کی آئینی درخواست پر فیصلہ سنادیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے بغیر نوٹس اور قانونی جواز کے ان کے پاسپورٹس، شناختی کارڈز، بینک اکاؤنٹس اور موبائل اکاؤنٹس بلاک کر دیے ، جس سے ان کے کاروبار اور روزگار شدید متاثر ہوئے ۔

درخواست گزار ایف بی آر کے رجسٹرڈ ٹیکس دہندہ ہیں اور ان کے خلاف درج ایف آئی اے مقدمے میں بھی ٹرائل کورٹ انہیں بری کر چکی ہے ، اس کے باوجود پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے حکام نے مؤقف اپنایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائیاں بنیادی مقدمے سے الگ نوعیت رکھتی ہیں اور ملزموں کی بریت سے خود بخود ختم نہیں ہوتیں، تاہم ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ انکوائری محض تفتیشی نوعیت کی تھی اور اس میں ابھی تک کوئی ٹھوس مجرمانہ مواد سامنے نہیں آیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت تحقیقات جاری رکھی جا سکتی ہیں، تاہم شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے والی ہر کارروائی قانون، شفافیت اور ضابطہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔ عدالت نے کہا صرف انکوائری کے زیر التوا ہونے کی بنیاد پر کسی شہری کے کاروبار، بینکنگ معاملات، پاسپورٹ یا مالی سرگرمیوں میں غیر معینہ مدت تک مداخلت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً جب تفتیشی ادارہ خود تسلیم کر رہا ہو کہ کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے بینکوں کو بھیجی گئی خط و کتابت کو بعض بینکوں نے اکاؤنٹس محدود یا بلاک کرنے کے لیے استعمال کیا، حالانکہ کسی مجاز عدالت یا اتھارٹی کی جانب سے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم موجود نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 4، 18، 23 اور 24 کے تحت حاصل حقوق سے متصادم ہیں۔ بینچ نے قرار دیا کہ ریاستی ادارے قانون کی حدود میں رہنے کے پابند ہیں اور کسی انکوائری کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں، مالی طور پر مفلوج یا ان کی تذلیل نہیں کر سکتے ۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات صرف معقول بنیادوں اور قانونی منظوری کے ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہوگا۔

عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ ان تمام افسران کے طرز عمل کا جائزہ لیں جنہوں نے قانونی اختیار، معقول وجوہات یا مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر خط و کتابت یا جابرانہ اقدامات کیے ،اگر اختیارات کے ناجائز استعمال، بدنیتی یا شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہراساں کرنے کے شواہد ملیں تو متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے ۔ عدالت نے یہ عمل 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ مذکورہ افسران کو اس دوران آپریشنل ذمہ داریاں نہ دی جائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مستقبل میں اگر ایف آئی اے افسران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں