ایران کو معاہدہ کیلئے نئی سخت تجاویز پیش،ٹرمپ نے جوہری پروگرام اور مالی رعایتوں پر موقف بدل لیا

ایران   کو  معاہدہ  کیلئے  نئی  سخت  تجاویز  پیش،ٹرمپ  نے  جوہری  پروگرام  اور  مالی  رعایتوں  پر  موقف  بدل  لیا

معاہدہ کے قریب ،سارے پتے امریکا کے پاس ،جلدبازی کی بجائے پائیدارنتائج چاہتے ہیں ،ڈیل پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائیگی:امریکی صدر عوامی حقوق کے تحفظ کے بغیر معاہدہ منظور نہیں:باقرقالیباف ،امریکاکیساتھ بات چیت جاری :عباس عراقچی،آبنائے سے مزید 28جہاز گزرگئے :پاسداران

 واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے تہران کو نئی اور سخت تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں اور امریکا کی جانب سے نئی تجاویز تہران کو بھجوا دی گئیں ، ایران جنگ کے خاتمے کے فریم ورک پر نظرثانی شدہ امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے متن میں کی گئی تبدیلیوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں ،تاہم ٹرمپ کو ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق شقوں پر شدید تحفظات ہیں اور ٹرمپ نے ایران کو دی جانے والی مالی رعایتوں پر سخت موقف اختیار کر لیا ہے ۔ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر تاخیر سے جواب دینے پر وہ سخت ناراض ہیں۔ نئی اور سخت امریکی تجاویز کا مقصد ایران پر فوری فیصلہ کرنے کیلئے دباؤ بڑھانا ہے ، مجوزہ فریم ورک پہلے ہی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو منظوری کیلئے بھیجا جا چکا، سپریم لیڈر تک رسائی میں مشکلات کے باعث معاہدے پر پیش رفت مزید تاخیر ہوسکتی ہے ۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران معاہدے کے بہت قریب ہیں اور ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا مگر اب کہا ہے کہ ڈیل پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو ہم چاہتے ہیں وہ ایران سے حاصل کر رہے ہیں، میں کسی جلدی میں نہیں ہوں، ورنہ اچھی ڈیل نہیں ہوگی۔ ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے ، تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے ، سارے پتے امریکا ہی کے پاس ہیں، ایران اس وقت بہت بری پوزیشن میں ہے ، ایران کی فوج، نیوی اور فضائیہ کا مکمل صفایا کیا جاچکا ہے ۔امریکی صدر نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری قیادت اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا لیکن ایرانی فوج کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے گریز کیا گیا۔ان کے بقول بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے ۔

ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ٹرمپ نے کہاکہ ایران کی فوج کو جان بوجھ کر اتنی شدت سے نشانہ نہیں بنایا گیا جتنا کہ بعض دیگر ریاستی عناصر کو بنایا گیا ہے ،لوگ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم نے درحقیقت ایران کی فوج کو کیوں چھوٹ دی ہے اور اُن کے ساتھ یہ نرمی کیوں برتی گئی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ایرانی فوج حکومت کے بعض دیگر حلقوں کے مقابلے میں کسی حد تک معتدل ہے ،اگر کسی ملک کے تمام اداروں اور افراد کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ملک کئی نسلوں تک دوبارہ تعمیر اور بحالی کے قابل نہیں رہتا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ پابندیاں برقرار ہیں اور ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں عالمی جہاز رانی کے لیے راستہ کھول دیا جائے گا۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں تاہم وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتے ہیں۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی۔ ٹرمپ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر اور ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان نکات کو حتمی معاہدے میں زیادہ واضح انداز میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے ۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران صرف ٹھوس نتائج کی بنیاد پر ہی کسی معاہدے کو قبول کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کے بغیر امریکا سے کوئی معاہدہ منظور نہیں کیا جائے گا، سفارت کاری کے میدان میں موجود سپاہیوں کو دشمن کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کاکہناہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت جو کچھ بتایا جا رہا ہے وہ محض قیاس آرائیاں ہیں اور ایسی خبروں کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے کی طرح اسٹیو وٹکوف کے براہ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات جاری ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل ایران کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے ۔ ایرانی حکام کے مطابق دشمن کے تمام اہداف ناکام ہوئے جبکہ ایران کی علاقائی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے ۔ایرانی فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بحری راستوں کے انتظام میں کسی بھی فوجی مداخلت یا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دوسری طرف ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 28 بحری جہاز کامیابی کے ساتھ گزرے ہیں، جن میں تیل بردار ٹینکرز، کنٹینر جہاز اور دیگر تجارتی کشتیاں شامل ہیں۔پاسداران کی بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام بحری جہاز پاسدارانِ انقلاب نیوی کی نگرانی اور سکیورٹی کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرے ۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول مسلسل، مضبوطی اور مکمل اختیار کے ساتھ جاری ہے تاکہ اس اہم عالمی سمندری راستے میں سکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں