جنوبی پنجاب:اڑھائی ارب کا شجرکاری منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
ڈی جی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ اور کوٹ ادو میں شجرکاری کی جائیگی 7249 ایکڑ پر جنگلات لگیں گے ، شمسی ٹیوب ویل نصب کر نے کی بھی تجویز موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ہوگا:حکومت
لاہور (محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب، خصوصاً ڈی جی خان فاریسٹ سرکل میں بڑے پیمانے پر شجرکاری منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق خالی جنگلاتی اراضی پر درخت لگانے کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ، جس کے تحت مرحلہ وار 7249 ایکڑ رقبے پر شجرکاری کی تجویز دی گئی ہے ۔دستاویزات کے مطابق حکومت نے دریائی جنگلات پر قبضے روکنے اور غیر قانونی کاشتکاری کے خاتمے کیلئے خالی اراضی پر فوری شجرکاری کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان فاریسٹ سرکل پنجاب کے مجموعی دریائی جنگلات کا 57 فیصد حصہ رکھتا ہے ، تاہم ہزاروں ایکڑ جنگلاتی اراضی اب بھی خالی پڑی ہے ،منصوبے کے تحت ڈی جی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ اور کوٹ ادو میں شجرکاری کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 1321 ایکڑ جبکہ دوسرے مرحلے میں 5928 ایکڑ اراضی پر درخت لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے میں مقامی اقسام کے درخت، جن میں شیشم، کیکر، نیم، بیری اور شہتوت شامل ہیں، سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خالی جنگلاتی زمین بڑے پیمانے پر قبضہ مافیا اور غیر قانونی کاشتکاری کیلئے استعمال ہو رہی ہے ، جس کے باعث ہر سال سرکاری مشینری کو انسدادِ قبضہ آپریشنز کرنا پڑتے ہیں۔ حکام کے مطابق اگر اس اراضی پر فوری شجرکاری نہ کی گئی تو دریائی جنگلات مزید سکڑ سکتے ہیں۔منصوبے میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز نصب کرنے کی تجویز بھی شامل ہے ۔حکومتی حکام کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد کاربن ذخیرہ بڑھانا، سموگ اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا اور شدید گرمی کے اثرات کم کرنا ہے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گی۔