بجٹ میں زراعت کو ٹیکس فری رکھا جائے ، پاکستان کسان اتحاد
اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے )پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے پریس کانفر نس میں حکومت کی زرعی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے۔۔۔
کسانوں کے گھروں پر چھاپوں کے فوری خاتمے ، بجٹ میں زراعت کو مکمل ٹیکس فری قرار دینے اور کھاد، بیج، زرعی ادویات، بجلی و ڈیزل پر مزید ٹیکس نہ لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھادوں پر سبسڈی دی جائے ، قیمتوں میں کمی کے لیے کھاد کمپنیوں سے مشاورت کی جائے اور بلا سود زرعی قرضے فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے زرعی تحقیق کے لیے قومی ادارہ قائم کرنے اور جدید بیجوں کی تیاری پر زور دیا۔چیئرمین کسان اتحاد نے کچھی کینال منصوبے کی جلد تکمیل، چشمہ رائٹ بینک کینال اور گومل زام کمانڈ ایریا کی فوری مرمت، پانی چوری کے خاتمے اور نہری نظام کی بہتری کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار نہ کی تو پاکستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کے گھروں پر چھاپے ناقابل قبول ہیں اور انتظامی ناکامیوں کا بوجھ کسانوں پر ڈالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر پرامن احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔