عدالتی حکم عدولی کاالزام ، ڈی سی حافظ آباد آج ہائیکورٹ طلب
الزام غلط ثابت ہوا تو مقدمہ درج ہوسکتا:چیف جسٹس کی درخواست گزار کو تنبیہ
لاہور (کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عدالتی احکامات کے باوجود ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جائیدادوں کے قبضے دلوانے کے الزام سے متعلق درخواست پر ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عبدالرزاق کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی حافظ آباد نے اپنے ریڈر کے ذریعے دو مرتبہ فون کروا کر بلایا اور کہا کہ چار مرلہ پراپرٹی کا قبضہ چھوڑ دیا جائے ۔عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر آپ کی بات غلط ثابت ہوئی تو آپ کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے؟ درخواست گزار نے جواب دیا کہ جی، مجھے اس بات کا علم ہے۔اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے عدالت سے کچھ عرض کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ریمارکس د ئیے کہ نہیں وکیل صاحب !آپ خاموش رہیں۔ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں، وہ آپ کی درخواست میں موجود نہیں۔ اب اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جو مرضی لکھ کر لے آئیں اور کہہ دیں کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو گئی۔ ڈی سی کیسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر سکتا ہے؟