بچوں سے بد سلوکی، گمشدگی، 3سال میں 562کیسز رپورٹ

بچوں سے بد سلوکی، گمشدگی، 3سال میں 562کیسز رپورٹ

زینب الرٹ کیلئے کون سا ادارہ جاتی نظام اور ایس او پیز بنائے گئے :اسلام آباد ہائیکورٹ بچوں کے تحفظ کی اتھارٹی ورکنگ، عدالتی سوالوں پر وزارت، پولیس سے جواب طلب

اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچوں کے تحفظ کیلئے قائم اتھارٹی کی ورکنگ سے متعلق وزارت انسانی حقوق سے تفصیلی رپورٹ، وزارت اور اسلام آباد پولیس سے عدالتی سوالوں پر تفصیلی جواب طلب کر لیے ،عدالت نے وزارتِ انسانی حقوق کے نامزد افسر کو معاونت کیلئے یکم جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا ڈائریکٹر جنرل زارا اتھارٹی بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری سنیلہ خرم کی دائر درخواست پر سماعت کے تحریری حکمنامہ میں کہا اسلام آباد انتظامیہ نے 2022 سے 2025 کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتہ ہونے کے واقعات پر رپورٹ جمع کرائی۔

رپورٹ کے مطابق تین سالوں کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتہ ہونے کے 562 کریمنل کیسز درج کیے گئے ۔ وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے نفاذ کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے ۔ عدالت نے زارا ایجنسی کے قیام، تنظیمی ڈھانچے ، منظور شدہ اسامیوں، تقرریوں اور کارکردگی کی تفصیلات طلب کر لیں اور استفسار کیا کہ زینب الرٹ جاری کرنے کیلئے کون سا ادارہ جاتی نظام وضع کیا گیا اور کیا ایس او پیز بنائے گئے ؟ یہ بھی بتائیں کہ کیا یہ ڈیٹا بیس اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے منسلک ہے یا نہیں؟ متاثرہ بچوں اور ان کے سرپرستوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ؟ آئندہ سماعت یکم جولائی کو مقرر کی جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں