حقِ شفعہ کیسز میں قانونی تقاضوں کی پابندی لازم:سپریم کورٹ

 حقِ شفعہ کیسز میں قانونی تقاضوں کی پابندی لازم:سپریم کورٹ

ایسے مقدمات میں طلبات کی ادائیگی، ان کا ثبوت کیس کی بنیاد ہوتے :تحریری فیصلہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف اپیل کی درخواست مسترد، نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار

اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حقِ شفعہ کے دعویٰ میں طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد سمیت تمام قانونی تقاضوں کی مکمل اور واضح تکمیل ناگزیر ہے ، طلبِ اشہاد کی تاریخ اور دیگر ضروری تفصیلات دعویٰ میں درج نہ کرنا مقدمے کیلئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے حقِ شفعہ کے مقدمہ میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے متفقہ فیصلے برقرار رکھے ۔ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے غلام عباس کی سول پٹیشن کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔ تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق درخواست گزار نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کرر میں چار کنال اراضی پر حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا،حقِ شفعہ کے مقدمات میں طلبات کی ادائیگی اور ان کا ثبوت مقدمے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ درخواست گزار ثابت نہیں کر سکا کہ طلبِ اشہاد کے نوٹس قانون کے مطابق خریداروں تک پہنچائے گئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں