وفاق خیبرپختونخوا کا 4758 ارب کامقروض:سہیل آفریدی
این ایف سی شیئر،ضم شدہ اضلاع کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا نہیں کئے جا رہے بانی سے ملاقات نہ ہوسکی تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے باہر دھرنا ہوگا:خطاب
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے اور خیبرپختونخوا کے 4 ہزار 758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی شیئر اور ضم شدہ اضلاع کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا نہیں کئے جا رہے ۔دلہ زاک روڈ انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور کی ترقی اور بحالی کیلئے 100 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ 200 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ 60 دنوں میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر صوبائی منصوبوں کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی اور بعض منصوبوں کے این او سی روکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، اس لیے اسے ترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام چاہتے ہیں کہ آئندہ بجٹ پر مشاورت بانی پی ٹی آئی سے کی جائے ۔ اگر 9 جون تک وزیر خزانہ اور انہیں بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سیاحت، نوجوانوں کی فلاح، تعلیم، صحت، اقلیتوں اور معذور افراد کے لیے نئے پروگرام متعارف کرائے جائیں گے ، جبکہ بلاسود قرضوں اور انٹرن شپ سکیموں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔