پنجاب :ہائر ایجوکیشن میں ایک ارب کے گھپلے ، معاملہ نیب کے سپرد

پنجاب :ہائر ایجوکیشن میں ایک ارب کے گھپلے ، معاملہ نیب کے سپرد

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے پی ٹی آئی دور کے 50 آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا نیب تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے :ارکان کمیٹی ،3 ماہ میں رپورٹ طلب

 لاہور،اسلام آباد (سیاسی نمائندہ،آئی این پی)پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے پی ٹی آئی دور حکومت میں محکمہ ہائر ایجوکیشن میں ہونیوالی ایک ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب)کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین ماہ میں جامع تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیئرمین کمیٹی اور رکن پنجاب اسمبلی افتخار حسین چھچھر کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ ہائر ایجوکیشن اور محکمہ سکول ایجوکیشن سے متعلق مالی سال 2021-22(پی ٹی آئی دور )کے 50 آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور4 آڈٹ پیراز جن میں اقساط کی ادائیگیوں پر انکم ٹیکس کی عدم کٹوتی، منصوبوں کے دائرئہ کار میں مقررہ حد سے زائد اضافہ، منصوبہ مکمل ہونے سے قبل 40 کروڑ روپے کی ورک گارنٹی جاری کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت منصوبے کی مبینہ غیر قانونی منظوری سمیت متعدد سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا گیا، جن کی مجموعی مالیت ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے ۔ کمیٹی نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے سپیشل ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر بروقت عملدرآمد نہ کئے جانے پر شدید تحفظات اور برہمی کا اظہار کیا اور ان 4 پیراز کو نیب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین نے ریمارکس میں کہا کہ محکمہ کو متعلقہ معاملات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پہلے ہی نیب کے سپرد کر دینا چاہیے تھا ، نیب تحقیقات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے ، تین ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں