چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم:ہر دکاندار کیلئے کم ازکم 25ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا لازمی،ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی بھی سہولت،آڈٹ سے استثنیٰ

چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم:ہر دکاندار کیلئے کم ازکم 25ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا لازمی،ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے  کی بھی سہولت،آڈٹ سے استثنیٰ

سالانہ 20کروڑ تک فروخت پر 1فیصد ٹیکس،سکیم میں شامل ہونا یا موجودہ ٹیکس نظام میں رہنا دکاندار کا اختیار،ٹیکس نہ دینے پر پہلے ماہ 10 ، دوسرے ماہ 25 ،تیسرے ماہ 50 ہزار جرمانہ ،پی او ایس شرط سے استثنیٰ موجودہ فائلرز کیلئے بھی سہولت،علاقائی زبانوں میں سادہ فارم تیار،ٹیکس نظام میں وسعت، شرح کم کرنے پر توجہ،مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے : اورنگزیب، اظہر کیانی کی پریس کانفرنس

 اسلام آباد(مدثر علی رانا)حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے آئندہ مالی سال 2026-27سے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرادی ، جس کے تحت ہر دکاندار کیلئے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کر انا لازمی ہوگا ،جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی بھی سہولت دی جائے گی۔ سکیم میں شامل دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔اہل دکانداروں کو ٹیکس کمپلائنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، رجسٹرڈ کاروباروں کو بینکنگ اور مالی سہولیات کے حصول میں آسانی ہو گی ،پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے چھوٹے تاجر بھی سکیم میں شامل ہو سکیں گے ،حکومت کو اس سکیم کے تحت آئندہ مالی سال 50 ارب روپے تک ریونیو ملنے کی توقع ہے ، آئی ایم ایف سے ریٹیلرز سکیم کیلئے ورچوئل مذاکرات کے دوران منظوری لی گئی۔اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے نیوز کانفرنس کی۔وزیر مملکت خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرادی ہے ،

سکیم تاجروں اور انجمنِ تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے ، اس سکیم کا اطلاق ایسے دکانداروں پر ہوگا جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے ، سکیم کے تحت دکاندار اپنی فروخت ظاہر کریں گے اور اس پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا جس کا مقصد ٹیکس نظام کو سادہ، قابلِ عمل اور وسیع بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کیلئے ایک سادہ فارم تیار کیا گیا ہے جو مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگااور دکاندار اپنی فروخت کی تفصیلات اس کے ذریعے جمع کرا سکیں گے ،گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا لازم ہوگا،سکیم میں شامل ہونے کے بعد ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔جبکہ دکاندار اپنی مرضی سے موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے خصوصی شناختی پلیٹ جاری کی جائے گی، شناختی پلیٹ پر دکان کا نام، این ٹی این اور ٹیکس سے متعلق معلومات درج ہوں گی، کیو آر کوڈ کے ذریعے دکان کی تصدیق ممکن ہوگی اور انسپکشن کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔

پلیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ایف بی آر انسپکٹر تصدیق کرے گا، کیو آر کوڈ سکین کیے بغیر کسی انسپکٹر کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سکیم میں شامل دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا،سنگین نوعیت کے معاملات میں کسی خصوصی آڈٹ سے قبل تاجر تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی، آڈٹ معاملات کیلئے ایک باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔پی او ایس سسٹم کی شرط سے بھی استثنیٰ دیا جائے گا اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ سہولت موجودہ فائلرز کیلئے بھی دستیاب ہوگی بشرطیکہ ان کا سالانہ ٹرن اوور گزشتہ تین سال میں کسی بھی ایک سال میں 20 کروڑ روپے سے زائد نہ ہو اور وہ کم از کم پچھلے سال کے برابر ٹیکس ادا کر رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو دکاندار نہ اس سکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی ٹیکس فائل کریں گے ان پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے ، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے ماہانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔وزیر مملکت خزانہ نے کہا ملک میں 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار موجود ہیں اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ کی حمایت سے اس سکیم کو نافذ کیا جا رہا ہے ، جبکہ ایف بی آر حکام اور تاجر برادری کے تعاون سے اسے حتمی شکل دی گئی ہے ، تاجروں کے ساتھ مل کر اس سکیم کو کامیاب بنایا جائے گا۔ دریں اثنا وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں وسعت لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکے ۔

سکیم کا بنیادی مقصد ٹیکس کے نظام کو آسان بنانا اور چھوٹے کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب اور مشرقِ وسطٰی کی کشیدہ صورتحال کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی اور حکومت نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ اپنے وسائل سے کیا، کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی، ملک میں ایک منصفانہ اور مؤثر ٹیکس نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا آئندہ ہفتے ٹیکس نظام سے متعلق اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔نئی سکیم پر ردعمل دیتے ہوئے صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر نے کہا آسان ٹیکس نظام سے تاجروں کا اعتماد بحال ہوگا،اس سے زیادہ افراد رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں آئیں گے ، تاجروں کو ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کیا جائے ۔ انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا یہ سکیم تاجر دوست ہے ، جو دکاندار ٹیکس جمع کرا لے گا اس سے کوئی بھی نہیں پوچھے گا ،اس سکیم کو کبھی ختم نہ کیا جائے ،کوئی تاجر اگر سکیم میں نہیں آنا چاہتا اس کے لیے کوئی زبردستی نہیں۔انہوں نے کہا وزیراعظم سے اپیل ہے کہ ہمیں لاک ڈاؤن سے آزادی دلوائی جائے ،ہمیں آزاد کاروبار کرنے دیں تاکہ بخوشی ٹیکس دے سکیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں