ایران جنگ : پاکستان کی امن کوششیں تیز، محسن نقوی فیلڈ مارشل کا اہم پیغام لیکر تہران پہنچ گئے، لبنان کے آرمی چیف کا سید عاصم منیر کی دعوت پر دورہ پاکستان
وفاقی وزیر داخلہ شہباز شریف کی خصوصی ہدایات لیکر تہران پہنچے ، ایرانی ہم منصب سے ملاقات، سپریم لیڈر کیلئے پیغام پہنچایا ، منجمد فنڈز پر پیشرفت:عرب میڈیا،ایران نے امریکی مال بردار جہاز قبضے میں لے لیا تہران کے پاس اب بھی 21 سے 22 فیصد میزائل، 60 دن سے زیادہ مذاکرات نہیں ہوں گے ، ایران تیزی سے جواب دے :ٹرمپ،24ارب ڈالر بحال کریں،یہ سمجھوتے کیلئے بڑی رقم نہیں:محسن رضائی
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران امریکا جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی امن کوششیں تیز ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے فیلڈ مارشل کا اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گئے جبکہ لبنان کے آرمی چیف سید عاصم منیر کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔محسن نقوی کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والی شنگھائی تعاون کانفرنس میں شرکت اور ایرانی ہم منصب سکندر مومنی ودیگررہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے بعد پاکستان پہنچے اوروزیراعظم سے خصوصی ملاقات کی جس میں دورہ تہران پر مشاورت کی گئی ، وزیراعظم نے خصوصی ہدایات دیں، وزیر داخلہ نے تہران پہنچنے پر ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے ملاقات کی ،خطے کی صورتِ حال اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور سپریم لیڈر کیلئے فیلڈ مارشل کا پیغام پہنچایا۔ ادھر لبنان کی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
لبنانی فوج کے مطابق یہ دورہ جنرل ہیکل کے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر کیا جا رہا ہے ، تاہم فوج نے فوری طور پر اس دورے کے مقصد یا مدت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔یہ دورے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں اور خلیجی ممالک کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ایرانی جوابی وار سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ، امریکی فوج نے ہفتے کے روز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف بھیجے گئے ڈرونز کو مار گرانے کے بعد ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات پر حملے کیے ۔ امریکی فوج کے مطابق یہ تازہ ترین کشیدگی ہے جس نے دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کا خیال ہے کہ ایران کے 4 ڈرونز خطے میں سمندری آمدورفت کو نشانہ بنانے کیلئے بھیجے گئے تھے ۔
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے ایکس پر بیان میں کہا کہ اس کے بعد امریکا نے گورک اور قشم جزیرہ میں ایران کی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو دونوں آبنائے ہرمز پر واقع ہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکی کارروائی 8 اپریل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے ۔ وزارت نے مزید کہا کہ ایسی بار بار کی خلاف ورزیاں ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن کشیدگی کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایران نے خبردار کیا کہ امریکا اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور کسی بھی مزید کشیدگی کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی، کیونکہ ان کے مطابق ان جہازوں نے ایران کی اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے ایک امریکی کمپنی سے منسلک کارگو جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے جبکہ باقی تین جہاز واپس مڑ گئے ۔کویت کی فوج نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس نے صبح سویرے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 7 بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا، جو کئی رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرے اور جن کے کچھ ملبے زمین پر گرے ۔ کویتی ہوائی اڈے کے قریب بھی دھماکے سنے گئے ، فوج کے مطابق ایرانی حملے سے مالی نقصان ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملوں کے بعد کویت کی فضائی حدود کئی گھنٹے تک معطل رہی جسے بعد ازاں بحال کردیا گیا ۔ بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سائرن بجنے کے دوران 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ کویت اور بحرین نے ان حملوں کی مذمت کی۔
کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے حملے ، جن میں ہفتے کا تازہ حملہ بھی شامل ہے ، کھلی جارحیت ہیں جو شہریوں، مقیم افراد اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔بعد ازاں ایران نے کہا کہ اس نے دونوں ممالک میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے ، تاہم امریکی فوج کا کہنا تھا کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دئیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔امریکا اور ایران گزشتہ تین ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے ایک عبوری معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات کو آئندہ مذاکرات کیلئے مؤخر کیا جانا تھا۔تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے باعث کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کے باعث اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اس غیر مقبول جنگ کو ختم کریں۔
انہوں نے این بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ایران کی زیادہ تر ڈرون اور میزائل ساز تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، لیکن ایران کے پاس اب بھی اپنے تقریباً پانچویں حصے (21 سے 22 فیصد)کے میزائل موجود ہیں۔ایران کے میزائل ذخیرے کے بارے میں ٹرمپ کا یہ اندازہ مئی میں دئیے گئے ان کے 18 فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا یہ اب بھی بڑی تعداد ہے ، لیکن اتنی نہیں جتنی ہمارے ابتدائی حملے کے وقت تھی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایرانی قیادت اتنی ہی مشکلات کا شکار ہے جتنا وہ بیان کرتے ہیں تو پھر وہ معاہدے پر آمادہ کیوں نہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا:کیونکہ وہ مضبوط ہیں،وہ باوقار ہیں،انہیں ایسے اقدامات کرنا پڑیں گے جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، لیکن اب ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ اس میں کچھ وقت لگتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ امن معاہدہ اس بات سے مشروط ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی اثاثوں کے منجمد 24 ارب ڈالر بحال کرے ۔ انہوں نے کہا امریکا کیلئے 24 ارب ڈالرز ایران سے سمجھوتے پر پہنچنے کیلئے بڑی رقم نہیں ہے ، یہ ایران کا پیسہ ہے ، امریکا کا نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو وہ ایک تاریک راہداری میں داخل ہو جائے گاتاہم انہوں نے کہا جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان کم ہے ۔اگرچہ منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رقم 100 سے 123 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے ۔ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ایران کے طاقت ور ہونے سے متعلق مغرب کا دیرینہ ڈراؤنا خواب اب حقیقت بن گیا ہے ۔ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے اور تزویراتی نقشہ دوبارہ تشکیل دیا جا رہا ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کے منجمد فنڈز کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے تاہم ایرانی منجمد فنڈز کے حجم اور اجراء کے وقت کے بارے میں اختلافات برقرار ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ 60 دن سے زیادہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے ، اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ تیزی سے جواب دے ۔