آزاد کشمیر معاملہ بھی بلوچستان، گلگت جیسا بن چکا :نجم سیٹھی
ایکشن کمیٹی سیاسی جماعت نہیں ، اسے نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے سیاسی جماعتیں ذمہ داری لینے کو تیار نہیں : ’’پروگرام آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کا معاملہ بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسا ہی بن چکا،یہ اب نیشنل سکیورٹی کا ایشو بن چکا ہے ، آزاد کشمیر میں پہلے دن سے افیکٹوکنٹرول نیشنل سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے پا س ہے ،بھارت میں بھی ایسا ہے کیونکہ دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہے گی کہ اس کے اندر کوئی ایسی تبدیلی آئے جس سے دوسری اسٹیبلشمنٹ کا فائدہ ہو ، مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا ۔ دنیا نیوز کے پروگرام آج کی بات سیٹھی کے ساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ بات یہ ہے اب تو اس کو 80 سال ہونے والے ہیں، اب تو کئی تبدیلیاں آچکیں ،قراردادیں اپنی جگہ رہیں گی ،مشرف کی آفر بھارت نے نہیں مانی، کشمیر کے ایشو پر پاکستانی اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ بہت حساس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں مہاجرین کی سیٹوں سے متعلق آج تک ڈیمانڈ نہیں تھی کہ اس کو تبدیل کیا جائے ،اب یہ ڈیمانڈ آئی ہے کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی گئی اور اس نے اپنے مطالبات رکھے ، ایک اکنامک یعنی بجلی، آٹا اور دوسرا گورننس کے ایشوز ،اب پولیٹیکل ڈیمانڈ ہے کہ مہاجرین کی 12 سیٹیں ختم کی جائیں،میرا خیال ہے یہ 12 سیٹیں کسی طریقے سے ختم نہیں کی جائیں گی کیونکہ اس کے پیچھے ایک لیگل آرگومنٹ ہے ،اس سے سارا سٹیٹس تبدیل ہوجاتا ہے ، اس کا اقوام متحدہ میں کیس موجود ہے ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں اس لئے اسے یہ ڈیمانڈ نہیں کرنی چاہئے ،یہ آٹے اور بجلی کی قیمت پر تحریک چلی تھی اس کو ٹھیک طریقے سے ہینڈل نہیں کیا گیا،اس کو ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی ہینڈل نہیں کرسکی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگوں کو سمجھانا چاہئے ،ان سے کہا جائے ہم ساری باتیں ماننے کو تیار ہیں مگر جو 12 سیٹوں کامعاملہ ہے اس کا فیصلہ اسمبلی کرے ، اگر سیاسی جماعتیں ذمہ داری لیں معاملہ حل ہوسکتا ہے مگر وہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔