آم کی پیداوار 18لاکھ ٹن رہ گئی، مصنوعی مٹھاس سے مانگ بھی کم
جوسز میں آم کے گودے کا تناسب 5سے بڑھا کر 10فیصد کیا جائے :قائمہ کمیٹی فوڈ
اسلام آباد (نامہ نگار)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں مصنوعی آم کے ذائقے والے مشروبات کے حفاظتی معیارات، آم کی پیداواری چیلنجز اور برآمدی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا مصنوعی مٹھاس نے قدرتی آم کے گودے کی مصنوعات کی مانگ بری طرح متاثر کی جس نے مقامی زرعی صنعت کو متاثر کیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ برسوں میں آم کی قومی پیداوار تقریباً 2.2 ملین ٹن سے کم ہو کر 1.8 ملین ٹن رہ گئی جس سے زرعی پیداوار اور مارکیٹ کے استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کمیٹی نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی سے بات چیت کرے اور جہاں ضروری ہو مصنوعی مٹھاس کنٹرول کرنے والے معیارات پر نظر ثانی کرے ۔ یہ بھی سفارش کی گئی کہ جوس کی مصنوعات میں آم کے گودے کا تناسب 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا جائے اور لازمی لیبلنگ کرائی جائے کہ 14 سال سے کم عمر بچوں کو مصنوعی مٹھاس والی مصنوعات استعمال نہیں کرنی چاہئیں، وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی پھل پکنے اور سنبھالنے میں مضر کیمیکلز کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کے لیے صوبائی حکومتوں سے خط و کتابت شروع کرے۔