جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑسکتی ہے :شاہ محمود

جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑسکتی ہے :شاہ محمود

اظہارِ رائے سے متعلق یورپی یونین کی تشویش سنجیدگی سے لینے کی ضرورت حکومت فوری طور پر ان معاملات پر توجہ دے :کوٹ لکھپت جیل سے بیان

لاہور (کورٹ رپورٹر)پی ٹی آئی رہنما و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس اصلاحات کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کیلئے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑ سکتی ہے ،یورپی یونین پاکستان سے اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے ، اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق   یورپی یونین کی تشویش کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ، صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا ایکٹ کو ‘‘کالا قانون’’ قرار دینے پر بھی یورپی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے ، سال 2025 میں پاکستان نے یورپی ممالک کو 8اعشاریہ 7 ارب یورو کی برآمدات کیں۔

جن میں سے 7 ارب یورو کی برآمدات جی ایس پی پلس سہولت کے تحت ممکن ہوئیں،موجودہ جی ایس پی پلس سہولت 2027 میں ختم ہو جائے گی اور اگلے مرحلے میں اس کے حصول کے لیے مزید سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ شاہ محمود نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق آئینی عدالت میں دائر درخواستیں، جبری گمشدگیوں کے الزامات اور کمزور طرزِ حکمرانی کے معاملات بھی یورپی یونین کی توجہ کا مرکز ہیں،حکومت فوری طور پر ان معاملات پر توجہ دے تاکہ پاکستان جی ایس پی پلس سہولت سے محروم ہونے کے خطرے سے بچ سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں