ایران پر حملے منسوخ : معاہدہ تیار، وقت اور جگہ کا جلد اعلان : ٹرمپ

ایران پر حملے منسوخ : معاہدہ تیار، وقت اور جگہ کا جلد اعلان : ٹرمپ

دستخط کرینگے توآبنائے ہرمز کھل جائیگی،ایسا بہت جلد ہوسکتا ،شاید اسی ہفتے یورپ میں:امریکی صدر امریکی حملوں میں 5زخمی،آئل ٹینکر ناکارہ،خلیج میں امریکی اڈوں، جہازوں کو نشانہ بنایا:ایران

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کر دئیے ہیں۔ یہ اعلان انہوں  نے ایران پر مزید بمباری کی دھمکی دینے اور تیل برآمد کرنے کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کرنے کے چند گھنٹوں بعد کیا۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا:اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ایرانی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا دیے گئے ہیں اور ان کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے ۔ میں، امریکا کے صدر کی حیثیت سے ، آج شام ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کرتا ہوں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مذاکرات اور حتمی نکات کو امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر فریقوں کی منظوری حاصل ہو چکی ہے ۔

انہوں نے کہابحری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار اور نافذ العمل رہے گی، جب تک کہ یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔ معاہدے پر دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ایک بہت بڑا معاہدہ طے کر لیا ہے ،آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر اس وقت کھل جائے گی جب ہم دستخط کریں گے ، جو بہت جلد ہو سکتا ہے ، شاید یورپ میں اسی ہفتے کے آخر تک۔امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کر سکتے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس معاہدے کی منظوری دی ہے ، تو ٹرمپ نے کہامیری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے ۔انہوں نے کہا پاکستان کے فیلڈمارشل بہترین جنرل ہیں، اسلام آباد اس عمل میں اہم اور قابلِ ستائش سفارتی کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عظیم فوجی رہنما قرار دیا۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران اس معاہدے کی منظوری دینے کا امکان رکھتا ہے ، تاہم اس نے ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔

قبل ازیں ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہاتھاامریکاآج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا۔مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل سٹرکچر کے دیگر اہم مقامات اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے ، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کا ایک ٹی وی انٹرویو میں کہنا تھا کہ امریکی حملے جلد ختم ہو جائیں گے ، لیکن اگر ایرانی قیادت نے فوری طور پر معاہدے پر دستخط نہ کیے تو شدید بمباری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا امریکا نے گزشتہ رات ایران پر 25 کروڑ ڈالر مالیت کے بم گرائے اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی اپنی دھمکی کو دہرایا۔انہوں نے کہا ہم چاہیں تو کل ہی وہاں داخل ہوسکتے ہیں، فوجی اہلکار بھیج سکتے ہیں۔ میں وہاں فوجی اہلکار نہیں بھیجنا چاہتا لیکن اگر میں چاہوں تو ہم فوجی اہلکاروں کا ایک چھوٹا دستہ بھیج کر وہاں کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکا بجلی گھروں اور پلوں پر حملے شروع کرے گا، جیسا کہ وہ پہلے دھمکی دے چکے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیاہاں، لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہوں گا، کیونکہ جب آپ ایسا کرتے ہیں تو عام لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے حکم دیا تو ہم بموں کے ذریعے بھی مذاکرات کریں گے ۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران کے فنڈز کو خلیجی اتحادیوں کو ہونے والے نقصان کے ازالے کیلئے استعمال کرے گا۔یہ پیش رفت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں جبکہ ساتھ ہی پسِ پردہ محدود نوعیت کے سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ حملوں کے وقت بھی ایک قطری وفد مذاکرات کیلئے تہران میں موجود تھا۔ ایک سفارتی ذریعے کے مطابق بات چیت رات گئے تک جاری رہی اور یہ مذاکرات امریکا کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کیے گئے ۔قطر کے مذاکرات کار امریکا ایران معاملے پر بات چیت کے بعد تہران سے واپس روانہ ہو گئے ۔قبل ازیں ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ ابتدائی معاہدے کیلئے مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے ۔

تین ایرانی ذرائع اور ایک یورپی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران سیاسی مفاہمت تک پہنچنے کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات پر پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم بعض اہم امور پر ابھی تفصیلی بات چیت جاری ہے ، جن میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی فنڈز کے اربوں ڈالر کی واپسی کا طریقۂ کار بھی شامل ہے ۔ایک ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران 6 سے 12 ارب ڈالر تک منجمد فنڈز فوری طور پر تہران منتقل کروانا چاہتا ہے ، جبکہ امریکا انسانی ہمدردی کی اشیا کی خریداری کے لیے مرحلہ وار فنڈز جاری کرنے کا حامی ہے اور براہِ راست رقوم کی واپسی کی مخالفت کرتا ہے ۔ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت کی ترجیح مکمل سیاسی تصفیہ نہیں بلکہ ایسا فریم ورک حاصل کرنا ہے جو منجمد اثاثے کھول کر اور جنگ بند کرا کے حکومت کو سانس لینے کا موقع فراہم کرے ۔تہران کے مطالبات میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعتراف بھی شامل ہے ۔ایک ایرانی ذریعے نے کہا فوجی نقطہ نظر سے یہ جنگ ایک بند گلی ثابت ہو رہی ہے ،امریکا ایران پر حملے کرکے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے ۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی اور کسی بھی معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہونی چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم ایران ایسی کسی خواہش کی تردید کرتا ہے ۔خیال رہے امریکی صدر کی جانب سے بدھ کو ایران پر سخت حملے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران پر مزید حملے کیے تھے ۔امریکی فوج کے مطابق تازہ حملوں میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی ڈھانچے اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ حملے تہران کے وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد شروع ہوئے اور تقریباً چار گھنٹے میں مکمل کر لیے گئے ۔ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ تہران،سیرک، کرگان، بندر عباس، میناب، کرج اور ورامین سمیت کئی شہروں میں دھماکے ہوئے ، جبکہ حکام کے مطابق ان واقعات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ۔ایران نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تین ماہ سے جاری جنگ کیلئے قائم نازک جنگ بندی اب عملاً بے معنی ہو چکی ہے ، کیونکہ امریکا کے تازہ حملوں کے بعد تہران نے خطے بھر میں جوابی کارروائیاں کی ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فضائی اڈوں سمیت بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے 18 اہداف پر جوابی حملے کیے ۔بعد ازاں ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے مسلسل دوسری رات اردن کے الازرق فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا اور امریکی اڈے پر 12 بیلسٹک میزائل داغے ۔اردن نے کہا کہ اس نے ایران کے 20 میزائل مار گرائے ۔بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق ایرانی ڈرونز کا ملبہ گرنے سے 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہوئی جبکہ حماد ٹاؤن اور دارالحکومت منامہ میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔کویت نے بھی ایرانی حملے کے باعث مختصر وقت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا۔کویت نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح اس کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے ریڈار کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ دو امریکی جہازوں پر فائرنگ بھی کی گئی،تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے اور نہ ہی کسی امریکی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔امریکی حکام کے مطابق ایران کی دھمکیوں کے باوجود تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی برقرار رکھی ہوئی ہے ۔ بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز عمان کے قریب ایک ٹینکر کو روکنے کے دوران امریکی فوجی کارروائی میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہوئے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی افواج نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جلویر نامی ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا ہے ۔بیان کے مطابق امریکی طیارے نے گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے جہاز پر دو میزائل داغے ، جنہوں نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عملے نے امریکی افواج کی ہدایات پر بار بار عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔سینٹ کام کے مطابق، اس ہفتے یہ اس نوعیت کا تیسرا اور ناکہ بندی کے آغاز کے بعد مجموعی طور پر نواں حملہ تھا۔یہ واقعہ جمعرات کی صبح عمان کے شہر صحار سے 21 بحری میل شمال مشرق میں پیش آیا۔برطانوی بحری سکیورٹی کمپنی وینگارڈ کے مطابق، ٹینکر میں عملے کے 20 افراد سوار تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں