بلوچستان :ٹرانسپورٹروں، تاجروں کی کال پرشٹر ڈاؤن،پہیہ جام

بلوچستان :ٹرانسپورٹروں، تاجروں کی کال پرشٹر ڈاؤن،پہیہ جام

ادارہ جاتی بحران مزید نمایاں ہوگیا،سیاسی جماعتوں کی خاموشی سوالیہ نشان

کوئٹہ (عرفان سعید )بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر جمود کا شکار ، جاری بدامنی، پہیہ جام ہڑتالوں اور شٹر ڈاؤن کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق صوبے بھر میں ٹرانسپورٹروں، تاجروں اور مائنزاونر زکی جانب سے 11 جون کودی گئی صوبے بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا،بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے جمعرات کو تمام سرکاری دفاتر کو بند رکھا گیا۔پہیہ جام ہڑتال کے باعث قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہی ، بس اڈے سنسان اور مسافر شدید مشکلات کا شکار رہے۔

ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ بڑھتے سکیورٹی خدشات، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات اور ناکافی حکومتی اقدامات نے انہیں احتجاج پر مجبور کردیا۔دوسری جانب بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی معطلی نے عوام اور کاروباری حلقوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ،ٹرین سروس بھی آئے روز معطل ہونے سے سفری نظام درہم برہم ہو چکا۔ادھر صوبے میں مختلف شعبہ جات بھی احتجاج کی لپیٹ میں ہیں۔ محکمہ صحت میں ہڑتال کے باعث حکومت کو سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے 168 ڈاکٹروں کو معطل کرنا پڑا، جس سے ادارہ جاتی بحران مزید نمایاں ہو گیا ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس تمام صورتحال میں سیاسی جماعتوں کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں