ماحولیاتی تبدیلیاں، آئی ایم ایف کے تحت 4اصلاحات مکمل
کاربن لیوی، مالیاتی قوانین، ای وی پالیسی فریم ورک، گرین ٹیکسونومی ہدایات شامل آئندہ مون سون پلان، 2.75کروڑ ڈالر سے گلیشئرز ٹو فارمز پروگرام کی منظوری
اسلام آباد (سیدظفرہاشمی)ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات اور ان سے نمٹنے کیلئے حکومتی سطح پر بڑے اقدامات سامنے آئے ہیں، اعدادوشمار کے مطابق 2025 ملک کی 65 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال رہا، قومی سالانہ اوسط درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، بارشیں معمول سے 3 فیصد کم ہوئیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی رزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی کے تحت چار اہم اصلاحات مکمل کیں جن میں کاربن لیوی کا نفاذ، الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی، ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے مالیاتی گائیڈ لائنز کا اِجرا، گرین ٹیکسونومی و ای ایس جی ڈسکلوژر گائیڈ لائنز شامل ہیں۔ حکومت نے فلیگ شپ سرمایہ کاری پر مبنی پاکستان کلائمیٹ پراسپرٹی پلان شروع کیا جس کے ساتھ پاکستان گرین ٹیکسونومی کے تحت جون 2029 تک ماحولیاتی خطرات، مواقع اور متعلقہ ڈیٹا کی رضاکارانہ رپورٹنگ کا آغاز کیا گیا، اسے تین مراحل میں لازمی قرار دیا جائے گا۔ سیلاب و دیگر قدرتی آفات سے نقصانات کم کرنے کیلئے وقت کا تعین اور پیشگی اقدامات پر مبنی مون سون 2026 سٹریٹجک پلان اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تحت 2 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی لاگت سے گلیشئرز ٹو فارمز علاقائی پروگرام کی منظوری دی گئی۔ 50 کروڑ ڈالر سے 'کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر رزیلینس انہانسمنٹ پروگرام'کے دوسرے مرحلہ پر عملدرآمد جاری ہے ۔