پاکستان کے پانی کو روکنے کا بھارتی دعویٰ صرف خام خیالی
جارحیت پر منہ توڑ پاکستان کے جواب سے بھارت کو بدلے کی جنگ کا بخار
(تجزیہ:سلمان غنی)
انڈین وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل کا یہ اعلان کے بھارت آئندہ برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی جانے نہ دینے کے عمل کو یقینی بنائے گا اور اس حوالہ سے ہم حکومتی پالیسی پر کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان اپنے اس ریاستی بیانیہ پر کاربندہے کہ پانی روکنے کی کوشش کھلی اور اعلانیہ جنگ کے مترادف ہے ،مطلب یہ کہ پاکستان پانی کے ایشو کو اپنی سلامتی کے ساتھ جوڑے اس پر پسپائی کو تیار نہیں، لہذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ کیا بھارت پانی کو روکنے کی پوزیشن میں ہے اور پاکستان کس جوابی حکمت عملی پر کاربند ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اس صورتحال میں کس پوزیشن پر ہے ؟۔ جہاں تک پاکستان کے پانی کی بندش کی بھارتی دھمکی کا سوال ہے تو بھارت پانی روک سکتا ہے نہ پانی رک سکتا ہے ،ویسے بھی بھارتی ڈیموں کی اتنی استعداد کار نہیں کہ وہ پانی روک سکے یا اسکا رخ موڑ سکے ، وہ صرف پانی چھوڑنے کے وقت میں ردوبدل کر سکتا ہے ۔ بنیادی سوال یہ کہ بھارت ایسا کیونکر چاہتا ہے ؟،تو وجہ اس کے سواکچھ نہیں کہ پہلگام واقعہ پرپاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد پاکستان کے منہ توڑ جواب نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا،وہ پاکستان سے بدلے کی جنگ کے بخار میں مبتلا ہے اور اب وہ پانی کو بطور ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ،بھارت انڈس واٹر ٹریٹی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت پانی کو دباؤ کا آلہ بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے تاکہ اب کسی فوجی کارروائی کے بغیر پاکستان پر سیاسی و معاشی دباؤ ڈالا جائے لیکن بھارتی عزائم پورے ہوتے ممکن نظر نہیں آتے ،جہاں تک پاکستان کی جوابی حکمت عملی کا سوال ہے تو پاکستان اس حوالہ سے الرٹ ہے ،طے شدہ حکمت عملی کے تحت پاکستان اپنے پانی کے ذخائر بھی بڑھانے کی پالیسی پر کاربند ہے ۔تکنیکی ماہرین کہتے ہیں کہ پانی کو روکنے کی بھارت کے پاس اہلیت نہیں، اس کے ڈیم اسکا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور خود بھارت کو پتہ ہے کہ پاکستان کے پانی روکنے کی قیمت کیا ہے جو آج کا بھارت ادا نہیں کر سکتا۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ پانی روکنے کی بھارتی حماقت خود اس کی اپنی وحدت اور سلامتی کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے ۔نئی پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان پر اثر انداز ہونے کے ہتھکنڈے بھارت کی خواہشات پر مبنی ہیں جن پر عملدرآمد کا بھارتی قیادت میں حوصلہ نہیں۔