آبی وسائل کیلئے103ارب مختص ،نیا پن بجلی منصوبہ شامل نہیں

آبی  وسائل  کیلئے103ارب مختص ،نیا پن  بجلی  منصوبہ  شامل  نہیں

داسو 15ارب، مہمند ڈیم 22ارب، تربیلا ایکسٹینشن 3ارب 40کروڑ، درگئی 2ارب ، وارسک کیلئے 2 ارب مختص ہارپو 2ارب 70کروڑ، اپر گدون 1ارب 48کروڑ، منگلا ڈیم 91کروڑ، کچی کینال 50کروڑرکھے گئے

 اسلام آباد(ذیشان یوسفزئی)نئے مالی سال کے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے تحت آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے 103 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس 103 ارب روپے میں ہائیڈل پراجیکٹس یعنی پن بجلی کے منصوبوں کے لیے 28  ارب 16 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے اور یہ تمام رقم جاری منصوبوں کے لیے رکھی گئی ہے ۔ رواں سال کوئی نیا پن بجلی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح واٹر سیکٹر یعنی پانی کے منصوبوں کے لیے 74 ارب 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ہائیڈل کے جاری بڑے منصوبوں میں عطا آباد جھیل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 50 کروڑ روپے ، چترال ہائیڈرو پاور سٹیشن کی استعداد بڑھانے کے لیے 73 کروڑ 60 لاکھ روپے ، درگئی ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کی بحالی کے لیے 2 ارب 6 کروڑ روپے اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (سٹیج ون) کے لیے 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اسی طرح ہارپو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 2 ارب 70 کروڑ روپے ، اپر گدون پاور سٹیشن کی استعداد میں اضافے کے لیے 1 ارب 48 کروڑ روپے اور تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 3 ارب 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ وارسک ہائیڈرو پاور ری ہیبلی ٹیشن منصوبے کے لیے 2 ارب 28 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔واٹر سیکٹر میں کے فور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ بھی پی ایس ڈی پی میں شامل ہے ۔ کچی کینال منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے ، کائٹو ویئر آبپاشی و پاور منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے ، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 22 ارب روپے ، نئی گاج ڈیم منصوبے کے لیے 20 کروڑ روپے اور منگلا ڈیم ریزنگ منصوبے کے لیے 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اسی طرح انڈس بیسن میں ٹیلی میٹری سسٹمز کی تنصیب کے لیے 5 ارب روپے ، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے اور کچی کینال فلڈ ڈیمیجز بحالی منصوبے کے لیے 1 ارب 37 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں