صوبے آئندہ مالی سال وفاق کو1035ارب روپے گرانٹ کی مد میں دینگے

صوبے  آئندہ  مالی  سال وفاق  کو1035ارب روپے  گرانٹ  کی  مد  میں  دینگے

صوبوں کو 13ہزار 350ارب کی ٹیکس رقم پر این ایف سی کے ذریعے 57.5فیصد شیئر ملے گا وفاق 3سال تک صوبوں سے اضافی رقم حاصل کرتا رہیگا جوسٹرٹیجک اخراجات کیلئے استعمال ہوگی

 اسلام آباد(مدثر رانا)وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی انتظام پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت آئندہ مالی سال 1 ہزار 35 ارب روپے صوبے وفاق کو گرانٹ کی مد میں دیں گے ۔صوبوں کی جانب سے یہ تعاون وفاق کیساتھ اہم سٹرٹیجک شراکت داری کیلئے ہے اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کیے بغیر لایا گیاہے ۔ اس نظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حکومتوں کا حصہ دستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق رہے گا۔ مالی سال 2026-27 کیلئے ایف بی آر کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کی گئی ہے ۔وفاق اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کے لیے کم از کم 13 ہزار تین سو پچاس ارب روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے ۔ 13 ہزار تین سو پچاس ارب روپے سے 15 ہزار دو سو چونسٹھ ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت آئین 1973 کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹر ٹیجک کیلئے استعمال کر سکے گی۔ یہ انتظام مالی سال 2026-27 کیلئے نافذ العمل ہوگا اور مالی سال 2027-28 اور 2028-29 کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اس کی تجدید کی جائے گی۔

آئندہ مالی سال صوبوں کو 13 ہزار 350 ارب روپے کی ٹیکس رقم پر این ایف سی کے ذریعے 57.5 فیصد شیئر ملے گا ۔آئندہ تین برسوں تک صوبوں کو اسی فارمولہ کے تحت این ایف سی شیئرز مل سکے گا اور اس کے علاوہ ایف بی آر ٹیکس کلیکشن کی اضافی رقم وفاق اپنے پاس رکھے گا، وفاق کو یہ رقم سٹرٹیجک اخراجات پورے کرنے کیلئے تین برسوں تک استعمال کرنے کا اختیار ہو گا۔ اضافی رقم کی فراہمی سے سالانہ بنیادوں پر صوبائی ڈویلپمنٹ فنڈز میں کٹوتی ہو گی، ذرائع کی جانب سے معلوم ہوا ہے کہ بڑے صوبوں کا زیادہ شیئرز وفاق کو مل سکے گا۔ آئندہ مالی سال کیلئے صوبوں کی جانب سے اضافی رقم بطور گرانٹ ملنے کی وجہ سے وفاقی بجٹ کے حجم میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 7 ہزار 840 ارب روپے کا ہدف رکھا گیاہے ، سیلز ٹیکس کی مدمیں 4 ہزار 927 ارب روپے جمع کیے جائیں گے ، وزارت خزانہ کی دستاویز ات کے مطابق ایف ای ڈی کی مد میں 1 ہزار 73 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 651 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے ، وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق صوبوں کو این ایف سی شیئرز دینے کیلئے آئندہ مالی سال انکم ٹیکس کی مد میں ٹارگٹ 4 ہزار 246 ارب روپے ، سیلز ٹیکس کیلئے 2 ہزار 815 ارب روپے ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ٹارگٹ 611 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کا ٹارگٹ 946 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں